گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 642
۶۳۸ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے روحانی خزائن جلد ۱۸ کہ وہ صاحب کتاب کے اپنے دل کے ہی خیالات ہوتے ہیں اور اس کو ایسے خیالات کی (۲۱) تراش خراش میں ایک ملکہ ہوتا ہے۔ اور ایسی پیشگوئی جو عقلی فراست کی حد سے دور ہو اور خالص غیب کی خبر ہو غیر ممکن ہے۔ غرض ان کے نزدیک نہ خدا کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے اور نہ معجزہ کچھ چیز ہے اور نہ پیشگوئی کچھ حقیقت رکھتی ہے اور مردوں کی قبریں صرف خاک کا ڈھیر ہے جن کے ساتھ روح کا کوئی علاقہ نہیں ۔ اور مردوں کا جی اٹھنا کم عقلی کے زمانہ کی کہانیاں ہیں اور آخرت کا فکر دیوانگی ہے اور تمام عقلمندی اسی میں ہے کہ دنیا کمانے کی لیاقتیں حاصل کریں۔ اور جو لوگ دن رات دنیا میں اور دنیا کی کارستانیوں میں مشغول ہیں ان کی پیروی کریں اور ایسے ہی بن جائیں۔ یہ افراط تفریط تو مسئلہ نبوت اور معاد کے متعلق ہے مگر بجز اس کے بات بات میں مسلمانوں کے امور معاشرت میں افراط تفریط پائی جاتی ہے۔ نہ کلام میں اعتدال پایا جاتا ہے۔ نہ کام میں ۔ نہ اخلاق میں نہ نکاح میں نہ طلاق میں نہ امساک میں نہ اتفاق میں۔ نہ غضب میں نہ رحم میں ۔ نہ انتظام میں نہ عفو میں ۔ غرض اس قوم میں عجیب قسم کا طوفان بے تمیزی برپا ہے۔ جہالت کا کچھ انتہا نہیں۔ ضلالت کی کچھ حد و پایاں نہیں پھر جبکہ وہ قوم جو تو حید اور میانہ روی کا عمامہ پہن کر دنیا میں ظاہر ہوئی تھی اس کی بے اعتدالیوں کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے تو دوسری قوموں پر کیا افسوس اور کیا ذکر ۔ عیسائی قوم کا مرکز ایسی زمین ہے جس میں زیر کی اور قوی دماغی کی لطافت بہت کچھ امیدیں دلاتی تھی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دین اور توحید کے معاملہ میں انہوں نے بھی طبعی اور فلسفہ پڑھ کر ڈبو دیا ہے۔ ایک طرف جب ہم نظر کرتے ہیں کہ وہ امور دنیا کی تدبیر اور ترتیب اور آئے دن جدید صنعتوں کے نکالنے میں کس انتہائی نقطہ تک پہنچ گئے ہیں ۔ اور پھر جب ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ وہ خدا شناسی کے مسئلہ میں کیسے گر گئے ہیں اور