گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 28

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۸ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد اور مجھے خواور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسی مسیح کا اوتار کر کے بھیجا ایسا ہی اُس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے تو حید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں کر کے عیسی مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی مسیح ایک لقب ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں خدا کو چھونے والا اور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا ۔ اور اس کا خلیفہ اور صدق اور راستبازی کو اختیار کرنے والا ۔ اور مہدی ایک لقب ہے جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں کہ فطرتاً ہدایت یافتہ اور تمام ہدا یتوں کا وارث اور اسم بادی کے پورے عکس کا محل سوخدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے سو میں ان معنوں کے رو سے عیسی مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں بروز عیسی و بروز محمد ۔ غرض میرا وجود ان دونوں نبیوں کے وجود سے بروزی طور پر ایک معجون مرکب ہے۔ عیسی مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو ایسا ہی ہوتا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ تک تمیں ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت کہے جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اُسی روز سے اُس کو یہ عقید ہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعا حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا ۔ خاص کر میری تعلیم اگر چہ خاص آدمی جو علم اور نہم سے کافی بہرہ رکھتے ہیں دس ہزار کے قریب ہوں گے مگر ہر ایک قسم کے لوگ جن میں نا خواندہ بھی ہیں تہیں ہزار سے کم نہیں ہیں بلکہ شائد زیادہ ہوں۔ منہ