گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 27

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۷ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد روحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ اُن کی جڑ تک پہنچ نہیں سکتے ۔ آخر کچھ بگاڑ کر اور مجاز کو حقیقت پر حمل کر کے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سواسی غلطی میں آج کل کے علماء مسیحی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا دیا جائے ۔ سو یہ حق تلفی خالق کی ہے اور اس حق کے قائم کرنے کے لئے اور توحید کی عظمت دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک بزرگ نبی ملک عرب میں گذرا ہے جس کا نام محمد اور احمد تھا خدا کے اُس پر بے شمار سلام ہوں ۔ شریعت دو حصوں پر منقسم تھی۔ بڑا حصہ یہ تھا له لا اله الا اللہ یعنی تو حید اور دوسرا حصہ یہ کہ ہمدردی نوع انسان کرو اور ان کے لئے وہ چا ہو جو اپنے لئے ۔ سو ان دو حصوں میں سے حضرت مسیح نے ہمدردی نوع انسان پر زور دیا۔ کیونکہ وہ زمانہ اسی زور کو چاہتا تھا۔ اور دوسرا حصہ جو بڑا حصہ ہے یعنی لا الہ الا اللہ جو خدا کی کی عظمت اور توحید کا سر چشمہ ہے اس پر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی قسم کے زور کو چاہتا تھا۔ پھر بعد اس کے ہمارا زمانہ آیا جس میں اب ہم ہیں۔ اس زمانہ میں یہ دونوں قسم کی خرابیاں کمال درجہ تک پہنچ گئی تھیں یعنی حقوق عباد کا تلف کرنا اور بے گناہ بندوں کا خون کرنا مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہو گیا تھا اور اس غلط عقیدہ کی وجہ سے ہزار ہا بے گناہوں کو وحشیوں نے تہ تیغ کر دیا تھا اور پھر دوسری طرف حقوق خالق کا تلف کرنا بھی کمال کو پہنچ گیا تھا اور عیسائی عقیدہ میں یہ داخل ہو گیا تھا کہ وہ خدا جس کی انسانوں اور فرشتوں کو پرستش کرنی چاہیے وہ مسیح ہی ہے اور اس قدر غلو ہو گیا کہ اگر چہ اُن کے نزدیک عقیدہ کے رو سے تین اقنوم ہیں لیکن عملی طور پر دعا اور عبادت میں صرف ایک ہی قرار دیا گیا ہے یعنی مسیح ۔ یہ دونوں پہلو اتلاف حقوق کے یعنی حق العباد اور حق رب العباد اس قدر کمال کو پہنچ گئے تھے کہ اب یہ تمیز کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا پہلوا اپنے غلو میں انتہائی درجہ تک جا پہنچا ہے۔ سو اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا