گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 26

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۶ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد جس حالت میں اسلامی قوموں میں سے کروڑ ہا لوگ روئے زمین پر ایسے پائے جاتے ہیں جو جہاد کا بہانہ رکھ کر غیر قوموں کو قتل کرنا اُن کا شیوہ ہے بلکہ بعض تو ایک محسن گورنمنٹ کے زیر سایہ رہ کر بھی پوری صفائی سے اُن سے محبت نہیں کر سکتے ۔ سچی ہمدردی کو کمال تک نہیں پہنچا سکتے اور نہ نفاق اور دورنگی سے بکلی پاک ہو سکتے ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح کے اوتار کی سخت ضرورت تھی۔ سو میں وہی اوتار ہوں جو حضرت مسیح کی رُوحانی شکل اور خو اور طبیعت پر بھیجا گیا ہوں ۔ اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ہے وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسی مسیح خدا کا پیارا خدا کا برگزیدہ اور دنیا کا نور اور ہدایت کا آفتاب اور جناب الہی کا مقرب اور اس کے تخت کے نزدیک مقام رکھتا ہے اور کروڑہا انسان جو اس سے سچی محبت رکھتے ہیں اور اُس کی وصیتوں پر چلتے ہیں اور اس کی ہدایات کے کار بند ہیں وہ جہنم سے نجات پائیں گے لیکن با ایں یہ سخت غلطی اور کفر ہے کہ اُس برگزیدہ کو خدا بنایا جائے ۔ خدا کے پیاروں کو خدا سے ایک بڑا تعلق ہوتا ہے اس تعلق کے لحاظ سے اگر وہ اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہہ دیں یا یہ کہ دیں کہ خدا ہی ہے جو اُن میں بولتا ہے اور وہی ہے جس کا جلوہ ہے تو یہ باتیں بھی کسی حال کے موقع میں ایک معنی کے رو سے صحیح ہوتی ہیں جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ انسان جب خدا میں فنا ہو کر اور پھر اس کے نور سے پرورش پا کر نئے سرے ظاہر ہوتا ہے تو ایسے لفظ اُس کی نسبت مجازاً بولنا قدیم محاورہ اہل معرفت ہے کہ وہ خود نہیں بلکہ خدا ہے جو اُس میں ظاہر ہوا ہے لیکن اس سے در حقیقت یہ نہیں کھلتا کہ وہی شخص در حقیقت رب العالمین ہے۔ اس نازک محل میں اکثر عوام کا قدم پھسل جاتا ہے اور ہزار ہا بزرگ اور ولی اور اوتار جو خدا بنائے گئے وہ بھی دراصل انہی لغزشوں کی وجہ سے بنائے گئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب