گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xlii
مجموعہ آمین ’’مجموعہ آمین‘‘ سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ، قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمدؓ، حضرت مرزا شریف احمدؓ اور حضرت نواب مبارکہ بیگمؓ کی ختم قرآن شریف کی مبارک تقاریب کے موقع پر جو دو دعائیہ نظمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھیں ان کا مجموعہ ہے۔۷؍ جون ۱۸۹۷ء کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کی آمین ہوئی اور ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۱ء کو حضرت مرزا بشیر احمدؓ، حضرت مرزا شریف احمدؓ اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگمؓ کی آمین کی تقریب ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہر دو تقاریب کے موقع پر بطور شکرانہ دعوت کی اور مساکین و یتامیٰ کو کھانا کھلایا۔آپؑ نے حضرت سیدنا محمود احمدؓ کی تقریب کے روز حضرت شیخ نور احمدؓ کو ایک آمین لکھ کر دی اور ارشاد فرمایا کہ ’’اس کو جلد چھپوا دیں‘‘ چنانچہ یہ اسی روز ۷؍ جون کو چھپ گئی اور اس تقریب میں پڑھ کر سنائی گئی۔یہ نظمیں نہایت درجہ سوز و درد میں ڈوبی ہوئی دعاؤں کا مجموعہ اور اپنی مبشر اولاد بالخصوص سیدنا محمود احمدؓ سے متعلق آپؑ کے دلی جذبات کی آئینہ دار ہیں۔یہی وہ نظم ہے جو ’’محمود کی آمین‘‘ کے نام سے معروف ہے۔دوسری تقریب کے موقع پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ آمین جو ہوئی ہے یہ کوئی رسم ہے یا کیا ہے؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: ’’میں ہمیشہ فکر میں رہتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں کہ کوئی راہ ایسی نکلے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا اظہار ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان پیدا ہو۔ایسا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے اور نیکیوں کے قریب کرتا ہے اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر لا انتہا فضل اور انعام ہیں ان کی تحدیث مجھ پر فرض ہے۔پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے۔ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر ہوا ہے۔یہ لڑکے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا کی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہیں اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی