گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxviii of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxviii

۱۹۰۰ء کے اخبار الحکم میں یہ سب مراسلات شائع کر دیئے۔جس پر اُن کے مریدوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔اور ادھر مولوی محمد احسن صاحب امروہیؓ نے ’’شمس الہدایہ‘‘ کا جواب ’’شمس بازغہ‘‘ کے نام سے شائع کر دیا۔چونکہ ’’شمس الہدایہ‘‘ کے آخر میں مباحثہ کی دعوت بھی دی گئی تھی اس لئے مولوی صاحب نے بتاریخ ۹؍ جولائی ۱۹۰۰ء بذریعہ اشتہار پیر صاحب کو اطلاع دے دی کہ ’’مَیں مباحثہ کے لئے تیار ہوں‘‘ (الحکم ۹؍ جولائی، ۲۳ ؍ جولائی ۱۹۰۰ء) پیر صاحب کی مخالفت اور پھر فریقین کی طرف سے تفسیر نویسی کے مقابلہ سے متعلق جو اشتہارات شائع ہوئے مکرم مولوی دوست محمد صاحب نے ان کا تاریخ احمدیت میں ذکر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰؍ جولائی ۱۹۰۰ء کو حق و باطل میں امتیاز کرنے کے لئے تفسیر نویسی میں علمی مقابلہ کرنے کے لئے دعوت دی اور فرمایا۔لاہور جو پنجاب کا صدر مقام ہے وہاں ایک جلسہ کر کے اور قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکال کر دُعا کر کے چالیس آیات کے حقائق اور معارف فصیح اور بلیغ عربی میں فریقین عین اسی جلسہ میں سات گھنٹے کے اندر لکھ کر تین اہل علم کے سپرد کریں جن کا اہتمام‘ حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہو گا- پیر صاحب نے اس چیلنج کو معہ شرائط قبول تو نہ کیا البتہ بغیر تعیین تاریخ اور وقت چپکے سے لاہور پہنچ کر ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ اوّل ہم نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بحث کریں گے اس میں اگر تم مغلوب ہو جاؤ تو ہماری بیعت کرلو۔اور پھر بعد اس کے ہمیں وہ (تفسیری) اعجازی مقابلہ بھی منظور ہے- حضرت اقدسؑ نے پیر صاحب کی اس پُرفریب چال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بھلا بیعت کر لینے کے بعد اعجازی مقابلہ کرنے کے کیا معنے؟ نیز فرمایا کہ انہوں نے تقریری مباحثہ کا بہانہ پیش کر کے تفسیری مقابلہ سے گریز کی راہ نکالی ہے اور لوگوں کو یہ دھوکا دیا ہے کہ گویا وہ میری دعوت کو قبول کرتا ہے۔حالانکہ میں انجام آتھم میں یہ مستحکم عہد کر چکا ہوں کہ آئندہ ہم مباحثات نہیں کریں گے لیکن انہوں نے اس خیال سے تقریری بحث کی دعوت دی کہ ’’اگر وہ مباحثہ نہیں کریں گے تو ہم عوام میں فتح کا ڈنکا بجائیں گے۔اور اگر مباحثہ کریں گے تو کہہ دیں گے کہ اس شخص نے خدا تعالیٰ کے ساتھ عہد کر کے توڑا-‘‘ (اس سے متعلق دیکھئے صفحہ ۸۷-۹۰ روحانی خزائن جلد ۱۷ و صفحہ ۴۵۴، ۴۵۵ جلد ہٰذا و حاشیہ صفحہ ۴۴۸تا۴۵۰) حقیقت میں نہ پیر صاحب اتنی علمی قابلیت رکھتے تھے کہ وہ ایسی تفسیر لکھتے اور نہ ہی انہیں فعلاً اس اعجازی مقابلہ کے لئے میدان میں نکلنے کی جرأت ہوئی-