گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxvii
(۲) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون (۳) بطور آزادی قائم کرنے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔اور ان تینوں قسموں پر جہاد کے لغوی معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لفظ جہاد کا اطلاق جائز ہے۔لیکن اسلام اس بات کا سخت مخالف ہے کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے یا محض ملک گیری اور توسیع مملکت کے لئے جارحانہ حملہ کیا جائے- تحفہ گولڑویہ ۱۸۹۶ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں جن سجادہ نشینوں کو دعوتِ مباہلہ دی تھی ان میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا نام بھی تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ پیر صاحب پہلے حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے تھے۔چنانچہ ۹۷-۱۸۹۶ء کی بات ہے کہ ان کے ایک مرید بابو فیروز علی اسٹیشن ماسٹر گولڑہ نے (جو بعد ازاں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کر کے سلِسلہ میں داخل ہو گئے تھے) جب پیر صاحب سے حضرت اقدسؑ کی بابت رائے دریافت کی تو انہوں نے بلاتامّل جواب دیا: - ’’امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ بعض مقامات منازل سلوک ایسے ہیں کہ وہاں اکثر بندگانِ خدا پہنچ کر مسیح اور مہدی بن جاتے ہیں۔بعض اُن کے ہم رنگ ہو جاتے ہیں۔یہ مَیں نہیں کہہ سکتا آیا یہ شخص (یعنی حضرت اقدس)منازل سلوک میں اس مقام پر ہے یا حقیقتاً وہی مہدی ہے جس کا وعدہ جناب سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس امت سے کیا ہے۔مذاہب باطلہ کے واسطے یہ شخص شمشیر برّاں کا کام کر رہا ہے اور یقینا تائید یافتہ ہے-‘‘ (الحکم ۲۴؍ جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۵ کالم ۲ و ۳) لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد آپ میدانِ مخالفت میں آ گئے اور جنوری ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اردو میں ’’شمس الہدایۃ فی اثبات حیاۃ المسیح‘‘ نامی کتاب شائع کی جو درحقیقت ان کے ایک مرید مولوی محمد غازی کی تالیف کردہ تھی جس کا انہوں نے اپنے ایک خط بنام حضرت مولوی حکیم نور الدینؓ مؤرخہ ۲۶؍ شوال ۱۳۱۷ہجر ی (مطابق ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۰ء) تذکرہ بھی کر دیا۔جب اس خط کا چرچا ہوا تو پیر صاحب نے اپنے ایک مرید کے سوال پر ایسا ظاہر کیا کہ گویا انہوں نے یہ خود کتاب لکھی ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ پیر صاحب کی اس دو رنگی پر خاموش نہ رہ سکے اور آپ نے ۲۴؍ اپریل