گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxvi of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxvi

مذہبی معاملات میں وہ کسی قسم کا دخل نہیں دیتی تھی۔اس کے متعلق شریعت کا حکم یہی تھا کہ اس کے ساتھ جہاد جائز نہیں۔(۲) پہلا زمانہ گیا اور وہ زمانہ آ گیا جس کے متعلق رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہ حدیث صادق آتی ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہٖ وَ عِرْضِہٖ فَھُوَ شَہِیْدٌ کہ جو شخص اپنے مال اور اپنی عزّت کے بچاؤ کے لئے مارا جاتا ہے وہ شہید ہوتا ہے۔بلکہ صرف مال اور عزت کا ہی سوال نہیں حالات اس قسم کے ہیں کہ اگر کوئی خرابی پیدا ہوئی اور لڑائی پر نوبت پہنچ گئی تو وہ تباہی جو مشرقی پنجاب میں آئی تھی شاید اب وہ ایران کی سرحدوں تک بلکہ اس سے آگے بھی نکل جائے۔(۳) پس اب حالات بالکل مختلف ہیں۔اب اگر پاکستان سے کسی ملک کی لڑائی ہو گئی تو حکومت کے ساتھ ہمیں لڑنا پڑے گا اور حکومت کی تائید میں ہمیں جنگ کرنی پڑے گی-‘‘ (۴) جیسے نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح دین کی خاطر ضرورت پیش آنے پر لڑائی کرنا بھی فرض ہے۔یہ کہنا کہ یہ دین کی خاطر جہادنہیں بالکل لغو بات ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اگر پاکستان خطرہ میں پڑا تو لڑنے کے لئے فرشتے آئیں گے؟ جب تک تم فوجی فنون نہیں سیکھو گے اس وقت تک تم ملک کی حفاظت کس طرح کر سکو گے؟ (۵) تمہیں یہ امر اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ جن امور کو اسلام نے ایمان کا اہم ترین حصّہ قرار دیا ہے اُن میں سے ایک جہاد بھی ہے۔بلکہ یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص جہاد کے موقعہ پر پیٹھ دکھاتا ہے وہ جہنمی ہو جاتا ہے۔(۶) جب کبھی جہاد کا موقع آئے یا رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہٖ وَ عِرْضِہٖ فَھُوَ شَہِیْدٌ کے مطابق ہمیں اپنے اموال اور اپنی عزتوں کی حفاظت کے لئے قربانی کرنی پڑے تو ہم اس میدان میں بھی سب سے بہتر نمونہ دکھانے والے ہوں -‘‘ (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء صفحہ ۱۴) اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں: - (۱) دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری