گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxii
حتّٰی تضع الحرب اوزارھا یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آ جائے-‘‘ (، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۸) اور فرماتے ہیں: - ’’جبکہ اس زمانہ میں کوئی شخص مسلمانوں کو مذہب کے لئے قتل نہیں کرتا تو وہ کس حکم سے ناکردہ گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں -‘‘ (، روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ۱۳) گویا آپ کا التوائے جہاد یعنی دینی قتال کی ممانعت کا فتویٰ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں ہے خود اپنی طرف سے نہیں۔اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان کا یہ مطلب تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں بوجہ مکمل مذہبی آزادی پائے جانے کے قتال دینی کی ضرورت نہ ہو گی- اس رسالہ کی اشاعت کے چند دن بعد حضرت اقدسؑ نے فتویٰ ممانعت دینی جہاد کا نظم میں (صفحہ ۷۷ تا صفحہ ۸۰ جلد ہذا) ذکر کیا ہے جس کے ابتدائی اشعار میں سے یہ چار شعر بھی ہیں ؎ اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے سیّد کونین مصطفیٰ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا اس نظم میں حضرت اقدس علیہ السلام نے التوائے جہاد کا فتویٰ دیتے ہوئے مذکورہ بالا تینوں وجوہات کا نہایت احسن پیرایہ میں ذکر فرمایا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۷۷ تا ۸۰) اقسام جہاد پھر آپ نے اس امر کی بھی تصریح فرمائی ہے کہ جہاد صرف تلوار سے جنگ کرنا ہی نہیں بلکہ جہاد