گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxviii
سے پیش آؤ اور سب طرح پر گورنمنٹ پر اعتبار رکھو-‘‘ (مجموعہ لیکچر ہائے آنریبل ڈاکٹر سرسید احمد خان بہادر ہلالی پریس ساڈھورہ دسمبر ۱۸۹۲ء صفحہ ۲۳۹) پس جو نظریہ گورنمنٹ انگریزی سے جہاد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا تمام جید علماء اسی نظریہ کے مؤیّد تھے۔مندرجہ بالا اقوال کے علاوہ جو مسلّم سیاسی اور مذہبی مسلم رہنماؤں کے ہیں ایک غیر از جماعت شخص (ملک محمد جعفر خان ایڈووکیٹ) کا بیان پیش کرنا بھی غیر مناسب نہ ہو گا۔ملک صاحب لکھتے ہیں: - ’’مرزا صاحب کے زمانے میں ان کے مشہور مقتدر مخالفین مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی، پیرمہر علی شاہ گولڑوی، مولوی ثناء اﷲ صاحب اور سرسید احمد خان سب انگریزوں کے ایسے ہی وفادار تھے جیسے مرزا صاحب۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں جو لٹریچر مرزا صاحب کے ردّ میں لکھا گیا اُس میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ مرزا صاحب نے اپنی تعلیمات میں غلامی پر رضا مند رہنے کی تلقین کی ہے-‘‘ (احمدیہ تحریک صفحہ ۲۴۳ شائع کردہ سندھ ساگر اکاڈیمی لاہور) خلاصہ کلام یہ کہ آپ کا حکومت برطانیہ کی تعریف کرنا اور اس کے ساتھ وفاداری کا اظہار دراصل ایک اصول کے ماتحت تھا وہ یہ کہ: - (ا) اس حکومت نے پنجاب کے مسلمانوں کو سکھ حکومت کے مظالم سے نجات دلائی (ب) اس نے ملک میں امن قائم کیا۔(ج) اس نے ملک میں کامل آزادی عطا کی۔جہاد یعنی قتال بالسیف کی ممانعت کی ایک اور وجہ پھر آپؑ نے ممانعت جہاد بالسیف کا ذکر کرتے ہوئے اس امر کی بھی تصریح کی کہ اس ملک اور اس زمانہ میں اس لئے جہاد یعنی قتال بالسیف ممنوع ہے کہ شرائط جہادنہیں پائی جاتیں۔چنانچہ آپؑ اپنی تالیف حقیقۃ المہدی میں فرماتے ہیں: - ’’فرفعت ہٰذہ السنّۃ برفع اسبابھا فی ہٰذہ الایّام‘‘ یعنی تلوار کے ساتھ جہاد کے شرائط پائے نہ جانے کے باعث موجودہ ایّام میں تلوار کا جہادنہیں رہا-