گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxi
کریں گے۔چنانچہ امام نووی حدیث یضع الجزیۃ کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: - ’’وامّا قولہ صلی اﷲ علیہ وسلم یضع الجزیۃ و الصواب فی معناہ انہ لا یقبلھا و لایقبلھا من الکفار الّا الاسلام‘ و من بذل منھم الجزیۃ لم یکف عنہ بھا بل لایقبل الّا الاسلام او القتل ہٰکذا قال الامام ابو سلیمان الخطابی وغیرہ من العلماء‘‘ (شرح النووی مع صحیح مسلم جلد اوّل صفحہ ۸۷ مطبوعہ اصح المطابع دہلی) ’’یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ حضرت عیسیٰؑ جزیہ کو موقوف کر دیں گے اس کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ وہ جزیہ قبول نہیں کریں گے اور کفار سے صرف ان کا اسلام لانا قبول کریں گے اور اُن میں سے اپنے آپ کو جو جزیہ دے کر چھڑانا چاہے گا تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا بلکہ مسیح علیہ السلام ان کے صرف اسلام لانے کو ہی قبول کریں گے اور اگر کوئی اسلام نہ لائے گا تو اُسے قتل کر دیں گے۔امام ابو سلیمان الخطابی وغیرہ علماء نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے فرمان یضع الجزیۃ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے-‘‘ (نیز دیکھو فتح الباری شرح صحیح بخاری لابن حجر العسقلانی جلد ۲ صفحہ ۳۱۵) اسی طرح نواب مولوی صدیق حسن خان بھوپالی اپنی کتاب ’’حجج الکرامۃ‘‘ صفحہ ۳۷۴ مطبوعہ مطبع شا ہجہانی واقع بلدہ بھوپال اور ان کے صاحبزادے نواب مولوی نور الحسن خان صاحب اپنی کتاب ’’اقتراب الساعۃ‘‘ میں مہدی معہود کی جنگوں کے متعلق لکھتے ہیں: - ’’سارے بادشاہ روئے زمین کے داخل اطاعت ہو جائیں گے۔مہدی اپنا ایک لشکر طرف ہندوستان کے روانہ کریں گے۔یہاں کے بادشاہ طوق بگردن ہو کر اُن کے پاس حاضر کئے جائیں گے۔سارے خزانے ہند کے بیت المقدس بھیج دیئے جائیں گے۔وہ سب خزائن حلیۂ بیت المقدس ہوں گے۔کئی برس تک مہدی اس حال میں رہیں گے-‘‘ (اقتراب الساعۃ صفحہ ۸۰ مطبوعہ ۱۳۰۹ھ مطبع سعید المطابع بنارس) پس انگریزی گورنمنٹ ایک تو مسلمانوں کے اس عقیدہ کے مطابق کہ مسیح موعود اور مہدی بزورشمشیر کافروں کو مسلمان بنائیں گے یا انہیں قتل کر دیں گے حضرت بانی ٔ جماعت احمدیہ کو ان کے