گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xx of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xx

کا ہر ایک آدمی مارا جائے۔پس خلیفۂ اسلام کا مقدس فرض یہ ہے کہ جب موقعہ پیش آئے غیر مسلم دنیا پر جہاد کیا جائے۔‘‘ (ترجمہ از انگریزی) سر ولیم میور ’’Life of Muhammad‘‘ صفحہ۵۳۴ ، ۵۳۳ مطبوعہ لنڈن ۱۸۸۷ء میں لکھتے ہیں کہ مدینہ پہنچ کر طاقت حاصل کر لینے کے بعد 'Intolerance quickly took the place of freedom, force of Persuasion۔۔۔۔۔۔۔۔Slay the unbelievers wheresoever ye find them; was now the watchword of Islam۔' یعنی ’’مذہبی مزاحمت نے آزادی کی جگہ اور زبردستی نے ترغیب کی جگہ لے لی اور اسلام کا امتیازی نشان اب یہ کلمہ ہو گیا کہ جہاں پاؤ کافروں کو قتل کرو۔‘‘ اور میجر آسبرن اپنی کتاب ’’ Islam under the Arab Role‘‘ میں جہاد کے زیر عنوان لکھتا ہے:۔’’جب آپ کو تکلیفیں دی جاتی تھیں اس وقت جو اصول آپ نے تجویز کئے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مذہب میں کوئی زبردستی نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔۔۔۔مگر کامیابی کے نشہ نے آپ کے بہتر خیالات کی آواز کو بہت عرصہ پہلے ہی خاموش کرا دیا تھا۔انہوں نے جنگ کا ایک عام فرمان جاری کر دیا تھا (جس کا نتیجہ یہ تھا) کہ اہل عرب نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار لے کر جلتے ہوئے شہروں کے شعلوں اور تباہ و برباد شدہ خاندانوں کی چیخ و پکار کے درمیان اپنے دین کی اشاعت کی۔‘‘ (ترجمہ انگریزی) (’’اسلام انڈر دی عرب رول‘‘ مطبوعہ لانگ مین گرین اینڈ کمپنی لنڈن صفحہ ۴۶) چونکہ مغرب نے مسئلہ جہاد کی حقیقت نہ سمجھنے کی وجہ سے اسلام کی صورت سخت بھیانک رنگ میں پیش کی تھی اس لئے حضرت اقدسؑ نے اپنی متعدد تالیفات میں مسئلہ جہاد پر بحث کی اور اس کی حقیقت ظاہر فرمائی۔علاوہ ازیں کئی ایک دوسری وجوہ اس مسئلہ پر بار بار لکھنے کی یہ ہوئیں:۔(۱) آپ کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا تھا اور مسلما نوں کا یہ خیال تھا کہ جب مسیح موعود اور مہدی ظاہر ہوں گے تو وہ کافروں سے جنگ کریں گے اور بزور شمشیر اسلام کی اشاعت