گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xix of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xix

05 نَحمدہٗ و نُصلّی علٰی رسولہِ الکریم3 تعارف (از حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) یہ روحانی خزائن کی سترھویں جلد ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب۔تحفہ گولڑویہ اور اربعین نمبر۱،نمبر۲، نمبر۳، نمبر۴ پر مشتمل ہے۔یہ رسالہ ۲۲؍ مئی ۱۹۰۰ء کو شائع ہوا۔اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقتِ جہاد اور اس کی فلاسفی بیان فرمائی اور قرآن و حدیث اور تاریخ سے جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اوائلِ اسلام میں مسلمانوں کو بحالت مجبوری جو جنگیں کرنی پڑیں وہ محض وقتی اور مدافعانہ اور مذہبی آزادی قائم کرنے کے لئے تھیں۔ورنہ اسلام سے بڑھ کر صلح و آشتی اور امن و سلامتی کا علمبردار کوئی اور مذہب نہیں ہے۔حضرت اقدسؑ نے اپنی متعدد تالیفات میں جہاد کے مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا مشن ادیانِ عالم پر دلائل وبراہین کی رُو سے اتمامِ حجت اور اسلام کا غلبہ ثابت کرنا تھا۔اور مغربی فلاسفروں اور مستشرقین علماء کا سب سے بڑا اعتراض اسلام پر یہ تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور وہ مذہب کے معاملہ میں جبر و اکراہ روا رکھتا ہے۔چنانچہ پادری میلکم میکال لنڈن کے انگریزی رسالہ ’’ دی ٹونٹیئتھہ سینچری‘‘* دسمبر ۱۸۷۷ء کے صفحہ ۸۳۲ میں لکھتا ہے:۔’’قرآن دنیا کو دو۲ حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔دارالاسلام یعنی اسلام کا ملک اور دارالحرب یعنی دشمن کا ملک۔جو لوگ مسلمان نہیں ہیں وہ سب اسلام کے مخالف ہیں۔لہٰذا سچے مسلمان کا فرض ہے کہ کفار کے خلاف جنگ کریں یہاں تک کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا قتل ہو جائیں جس کو جہاد یا جنگ مقدس کہتے ہیں۔جس کا خاتمہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ یا تو دنیا کے کفار سب کے سب اسلام قبول کر لیں یا اُن *The 20th century