فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 748

فتح اسلام — Page 38

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸ فتح اسلام میں فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کے یعنی تم حقیقی نیکی کو جو نجات تک پہنچاتی ہے ہرگز پا نہیں سکتے بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں۔ اس جگہ میں اپنے چند اور دلی دوستوں کا بھی ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو اس الہی سلسلہ میں داخل اور میرے ساتھ سرگرمی سے دلی محبت رکھتے ہیں ۔ از آں جملہ اخویم شیخ محمد حسین مراد آبادی ہیں جو اس وقت مراد آباد سے قادیان میں آکر اس مضمون کی کاپی محض اللہ لکھ رہے ہیں۔ شیخ صاحب ممدوح کا صاف سینہ مجھے ایسا نظر آتا ہے جیسا آئینہ۔ وہ مجھ سے محض اللہ غایت درجہ کا خلوص و محبت رکھتے ہیں اُن کا دل حب اللہ سے پُر ہے اور نہایت عجیب مادہ کے آدمی ہیں۔ میں انہیں مراد آباد کے لئے ایک شمع منور سمجھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ محبت اور اخلاص کی روشنی جو اُن میں ہے وہ کسی دن دوسروں میں بھی سرایت کرے گی ۔ شیخ صاحب اگر چہ قلیل البضاعت ہیں مگر دل کے کبھی اور منشرح الصدر ہیں۔ ہر طرح سے اس عاجز کی خدمت میں مشغول رہتے ہیں اور محبت سے بھرا ہوا اعتقاد ان کے رگ وریشہ میں رچا ہوا ہے۔ از آن جملہ اخویم حکیم فضل دین بھیروی ہیں۔ حکیم صاحب ممدوح جس قدر مجھ سے محبت اور اخلاص اور حسن ارادت اور اندرونی تعلق رکھتے ہیں میں اُس کے بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ وہ میرے بچے خیر خواہ اور دلی ہمدرد اور حقیقت شناس مرد ہیں۔ بعد اس کے جو خدا تعالی نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجھے توجہ دی اور اپنے الہامات خاصہ سے امیدیں دلائیں میں نے کئی لوگوں سے اس اشتہار کے لکھنے کا تذکرہ کیا کوئی مجھ سے متفق الرائے (۱۵) نہیں ہوا لیکن میرے یہ عزیز بھائی بغیر اس کے کہ میں ان سے ذکر کرتا خود مجھے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے محرک ہوئے اور اس کے اخراجات کے واسطے اپنی طرف سے سو ر ڈ پیہ دیا۔ میں ان کی فراست ایمانی سے متعجب ہوں کہ اُن کے ارادہ کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو گیا۔ وہ ہمیشہ در پردہ خدمت کرتے رہتے ہیں اور کئی سو روپیہ پوشیدہ طور پر ال عمران : ۹۳