فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 748

فتح اسلام — Page 30

روحانی خزائن جلد۳ ۳۰ فتح اسلام دوستوں نے محض محبت کی راہ سے خدمت کی۔ سو وہ سب اس کارخانہ کے لابدی اور پیش آمدہ کاموں میں وقتا فوقتا خرچ ہوتا رہا اور چونکہ حکمت الہی نے سلسلہ تالیف کتاب کو تاخیر میں ڈالا (۵۰) ہوا تھا اس واسطے اُس کے لئے دوسری اہم شاخوں سے جو با مرالہی قائم تھیں کچھ بچت نکل نہ سکی اور تا خیر طبع کتاب میں حکمت یہی تھی کہ تا اس فترت کی مدت میں بعض دقائق و حقائق مؤلف پر کامل طور سے کھل جائیں اور نیز مخالفین کا سارا بخار با ہر نکل آوے۔ اب جو ارادہ الہی پھر اس طرف متعلق ہوا کہ بقیہ تالیفات کی تعمیل ہو تو اُس نے اس مضمون دعوت کے لکھنے کی طرف مجھے توجہ دی۔ سو اس وقت مجھ کو تکمیل تالیفات کی سخت ضرورت ہے۔ براہین کا بہت سا حصہ ہنوز طبع کے لائق ہے۔ اگر وہ طیار ہو جائے تو خریداروں کو اور اُن سب کو پہنچایا جائے جن کو محض اللہ پہلے حصے دیئے گئے ہیں اور آئندہ دینے کا وعدہ ہے۔ ایسا ہی دوسرے رسائل جیسے اشعة القرآن ،سراج منیر ، تجدید دین ، اربعین فی علامات المقربین اور قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھنے کا بھی ارادہ ہے اور یہ بھی دل میں جوش ہے کہ عیسائی وغیرہ مذاہب باطلہ کے رد میں اور اُن کے اخبارات کے مقابل پر ماہواری ایک رسالہ نکلا کرے۔ اور ان سب کاموں کے مسلسل اجراء کے لئے بجز انتظام سرمایہ اور مالی امداد کے اور کوئی روک درمیان اہ نہیں۔ اگر ہم کو یہ میسر آجائے کہ ایک مطبع ہمارا ہو اور ایک کاپی نویس ہمیشہ کے لئے ہمارے پاس رہے اور تمام ضروری مصارف کی وجوہ ہمیں حاصل ہوں یعنی جو کچھ کا غذات اور چھپوائی اور کاپی نویسوں کی تنخواہ میں خرچ ہوتا ہے وہ سارے اخراجات وقتاً فوقتاً بہم پہنچتے رہیں تو ان پنج شاخوں میں سے اس ایک شاخ کی پورے طور پر نشو ونما پانے کا کافی انتظام ہو جائے گا۔ اے ملک ہند کیا تجھ میں کوئی ایسا با ہمت امیر نہیں کہ اگر اور نہیں تو فقط اِسی شاخ کے اخراجات کا متحمل ہو سکے ۔ اگر پانچ مومن ذی مقدرت اس وقت کو پہچان لیں تو ان پانچ شاخوں کا اہتمام اپنے اپنے ذمہ لے سکتے ہیں ۔ اے خدا وند خدا تو آپ ان دلوں کو جگا ۔ اسلام پر ابھی ایسی مفلسی طاری نہیں ہوئی ۔ تنگد لی ہے