فتح اسلام — Page 21
روحانی خزائن جلد۳ ۲۱ فتح اسلام اور یہودیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رو سے بچ بچ عضو واحد کی طرح ہو گئی تھی اور اُن کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب (۳۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویر میں تھے ۔ سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ سے مخش بت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں (۳۷) خدا تعالیٰ کی مدد اور رحمت سے آپ کے مقابل پر تقریر کرنے کو بھی حاضر ہوں۔ میں بباعث بیماری اب کوئی سفر دور دراز تو نہیں کر سکتا لیکن اگر آپ راضی ہوں تو اپنے کرایہ سے لاہور ۳۴ جیسے پنجاب کے صدر مقام میں آپ کو اس کام اور اس امتحان کے لئے تکلیف دے سکتا ہوں اور یہ عہد عزم پختہ سے کرتا ہوں؟ اور آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ قوله یه شخص محض نالائق ہے علمی لیاقت نہیں رکھتا۔ اقول اے حضرت مجھے دنیا کی کسی حکمت اور دانائی کا دعوی نہیں ۔ اس جہان کی دانائیوں اور چالاکیوں کو میں کیا کروں کہ وہ روح کو منور نہیں کر سکتیں ۔ اندرونی غلاظتوں کو وہ دھو نہیں سکتیں۔ بجز اور خاکساری کو پیدا نہیں کر سکتیں بلکہ زنگ پر زنگ چڑھاتی اور کفر پر کفر بڑھاتی ہیں۔ میرے لئے یہ بس ہے کہ عنایت الہی نے میری دستگیری کی اور وہ علم بخشا کہ مدارس سے نہیں بلکہ آسمانی معلم سے ملتا ہے۔ اگر مجھے امی کہا جائے تو اس میں میری کیا کسر شان ہے بلکہ جائے فخر کیونکہ میرا اور تمام خلق اللہ کا مقتدا جو عامہ خلائق کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا وہ بھی اُمی ہی تھا۔ میں اس کھوپڑی کو ہرگز قدر کے لائق نہیں سمجھوں گا جس میں علم کا گھمنڈ ہے مگر اس کا ظاہر و باطن (۳۵) تاریکی سے بھرا ہوا ہے۔ قرآن شریف کو کھول کر گدھے کی مثال پر غور کرو کیا یہ کافی نہیں؟ قولہ میں نے الہام کے بارے میں اس سے چند سوال کئے کسی قدر بے معنی جواب دے کر سکوت اختیار کیا۔