فتح اسلام — Page 4
روحانی خزائن جلد۳ فتح اسلام اب میں ذیل میں وہ مضمون جس کا اوپر وعدہ دیا ہے لکھتا ہوں ۔ اے حق کے طالبو اور اسلام کے بچے محبو! آپ لوگوں پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمانی اور کیا عملی جس قدر امور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر طرف سے چل رہی ہے۔ وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اسکی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمال صالحہ ہے اُن کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ہے اس سے بکلی بے خبری ہے۔ اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیت کا سخت مخالف پڑا ہے۔ اُس کے جذبات اُس کے جاننے والوں پر نہایت بداثر کر نیوالے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں۔ وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں ان علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم وصلوٰۃ وغیرہ عبادت کے طریقوں کو تحقیر اور استہزا کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ وقعت اور عظمت نہیں بلکہ اکثر ان میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریت کے رگ وریشہ سے پُر اور مسلمانوں کی اولاد کہلا کر پھر ۴) دشمن دین ہیں۔ جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے علوم ضروریہ کی تحصیل سے فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ در مستعفی ہو چکتے ہیں۔ یہ میں نے صرف ایک شاخ کا ذکر کیا ہے جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے مگر اس کے سوا صد ہا اور شاخیں بھی ہیں جو اس سے کم نہیں ! عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ دنیا سے امانت اور دیانت ایسی اُٹھ گئی ہے که گویا بکلی مفقود ہوگئی ہے۔ دنیا کمانے کے لئے مکر اور فریب حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔ جو شخص سب سے زیادہ شریر ہو وہی سب سے زیادہ لائق سمجھا جاتا ہے۔ طرح طرح کی ناراستی ، بد دیانتی ، حرام کاری ، دغا بازی ، دروغ گوئی اور نہایت درجہ کی رُو بہ بازی