دافع البَلاء — Page 245
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۴۱ دافع البلاء بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں ۔ خدا نے ایسا کیا نہ میرے لئے بلکہ اپنے نبی مظلوم کے ۲۱ لئے۔ باقی تر جمہ اس الہام کا یہ ہے کہ عیسائی لوگ ایذا رسانی کے لئے مکر کریں گے اور خدا بھی مکر کرے گا اور وہ دن آزمائش کے دن ہوں گے اور کہہ کہ خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے۔ یہ ایک روحانی طور کی ہجرت ہے اور جیسا کہ اب تک میں سمجھتا ہوں اس کے معنے یہ ہیں کہ انجام کار زمین میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی اور زمین راستی اور سچائی سے چمک اٹھے گی۔ اب سوچ لو کہ ہم میں اور عیسائیوں میں کس قدر بعد المشرقین ہے۔ جس پاک وجود کو ہم تمام مخلوقات سے بہتر سمجھتے ہیں اس کو یہ مفتری قرار دیتے ہیں۔ صلح تو اس حالت میں ہوتی ہے کہ جب فریقین کچھ کچھ چھوڑنا چاہیں۔ لیکن جس حالت میں ہمارا دین اور ہماری کتاب عیسائی مذہب کو سراپا نا پاک اور نجس سمجھتا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے تو پھر ہم کس بات پر صلح کریں۔ اس قدر مذ ہبی مخالفت کا انجام صلح ہرگز نہیں ہے بلکہ انجام یہ ہے کہ جھوٹا مذ ہب بالکل فنا ہو جائے گا اور زمین کے کل نیک طینت انسان سچائی کو قبول کریں گے تب اس دنیا کا خاتمہ ہوگا۔ ہمارا عیسائیوں سے مذہبی رنگ میں کچھ بھی ملاپ نہیں بلکہ ہمارا جواب ان لوگوں کو یہی ہے قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ پس یہ کیسی نا پاک رسالت ہے جس کا چراغ دین نے دعویٰ کیا ہے۔ جائے غیرت ہے کہ ایک شخص میرا مرید کہلا کر یہ نا پاک کلمات منہ پر لاوے کہ میں مسیح ابن مریم کی طرف سے رسول ہوں تا ان دونوں مذہبوں کا مصالحہ کروں۔ لعنة الله على الكافرين ۔ عیسائیت وہ مذہب ہے جس کی نسبت اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی شامت سے زمین پھٹ جائے ۔ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ کیا اس سے صلح ؟ پھر با وجود نا تمام عقل اور نا تمام فہم اور نا تمام پاکیزگی کے یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں یہ کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی بہتک عزت ہے گویا رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء اس طریق سے مستقلی ہے الكافرون : ٣٢