دافع البَلاء — Page 236
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۳۲ دافع البلاء اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے کہ مَا دُعَوُا الْكَفِرِيْنَ إِلَّا فِي ضَللٍ اور چونکہ احتمال ہے کہ بعض نبی الطبع اس اشتہار کا اصل منشاء سمجھنے میں غلطی کھا ئیں اس لئے ہم مکررا اپنے فرض دعوت کا اظہار کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ طاعون جو ملک میں پھیل رہی ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیشگوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے اور لوگوں نے نہ صرف انکار بلکہ خدا کے اس مسیح کو گالیاں دیں کا فر کہا اور قتل کرنا چاہا اور جو کچھ چاہا اس سے کیا۔ اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ اُن کی اس شوخی اور بے ادبی پر اُن پر تنبیہ نازل کرے اور خدا نے پہلے پاک نوشتوں میں خبر دی تھی کہ لوگوں کے انکار کی وجہ سے اُن دنوں میں جب مسیح ظاہر ہوگا ملک میں سخت طاعون پڑے گی۔ سوضرور تھا کہ طاعون پڑتی۔ اور طاعون کا نام طاعون اس لئے رکھا گیا کہ یہ طعن کرنے والوں کا جواب ہے۔ اور بنی اسرائیل میں ہمیشہ طعن کے وقت میں ہی پڑا کرتی تھی اور طاعون کے لغت عرب میں معنے ہیں بہت طعن کرنے والا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ طاعون طعن تشنیع کی ابتدائی حالت میں نہیں پڑتی بلکہ جب خدا کے مامور اور مرسل کو حد سے زیادہ ستایا جاتا ہے اور توہین کی جاتی ہے تو اُس وقت پڑتی ہے۔ سوائے عزیز و اس کا بجز اس کے کوئی بھی علاج نہیں کہ اس مسیح کو بچے دل اور اخلاص سے قبول کر لیا جاوے۔ یہ تو یقینی علاج ہے اور اس سے کمتر درجہ کا یہ علاج ہے کہ اس کے انکار سے منہ بند کر لیا جائے اور زبان کو بد گوئی سے روکا جائے۔ اور دل میں اس کی عظمت بٹھائی جائے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے کہ یا مسیح الخلق علوانا میری طرف دوڑیں گے۔ یہ جوئیں نے ذکر کیا ہے۔ المؤمن: ۵۱