دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 822

دافع البَلاء — Page 235

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۳۱ دافع البلاء تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کر دے۔ اسی طرح عیسائیوں کو چاہیے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اسی طرح میاں شمس الدین اور اُن کی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہیے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور منشی الہی بخش 1) اکونڈٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔ اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبد الحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑولی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔ اور بالآخر یادر ہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ملہم اور آریوں کے پنڈت اور عیسائیوں کے پادری داخل ہیں چپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیاں سورج کی طرح چمک کر دکھلا دے گی کہ وہ ایک بچے کا مقام ہے۔ بالآ خرمیاں شمس الدین صاحب کو یادر ہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت آئن يُجِيبُ الْمُضْطر لکھی ہے اور اس سے قبولیت دعا کی امید کی ہے ۔ یہ امید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الہی میں لفظ مضطر سے وہ ریافتہ مراد ہیں جو حض ابتلا کے طور پر ضر ریافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشتق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا۔ اور النمل : ٦٣