دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 822

دافع البَلاء — Page 224

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۰ دافع البلاء قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہوا تھا اور تمام دنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر۔ خدا اُس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ بیٹی نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اُس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُس کی خدمت کرتی تھی۔اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں بیٹی کا نام حضور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ اور پھر یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے بیچی کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو دیکھے ایلیا بنایا گیا اپنے گنا ہوں سے توبہ کی تھی اور اُن کے خاص مُریدوں میں داخل ہوئے تھے ۔ اور یہ بات حضرت بیٹی کی فضیلت کو بہداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ بیچی نے بھی کسی کے ہاتھ پر تو بہ کی تھی ۔ پس اُس کا معصوم ہونا بد یہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسی اور اُس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں اس کے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ پلید یہودیوں نے حضرت عیسی اور اُن کی ماں پر سخت ناپاک الزام لگائے تھے اور دونوں کی نسبت نعوذ باللہ شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو اس افترا کارڈ ضروری تھا۔ پس اس حدیث کے اس سے زیادہ کوئی معنے نہیں کہ یہ پلید الزام جو حضرت عیسی اور اُن کی ماں پر لگائے گئے ہیں یہ بھی نہیں ہے بلکہ ان معنوں کر کے وہ مس شیطان سے پاک ہیں اور اس قسم کے پاک ہونے کا واقعہ کسی اور نبی کو بھی پیش نہیں آیا۔ منہ