دافع البَلاء — Page 225
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ طاعون دافع البلاء چو آمد از خدا طاعون به بیس از چشم اکرامش تو خود ملعونی اے فاسق چرا ملعوں نہی نامش زمان تو به و وقت صلاح و ترک خبث است این کسے کو بر بدی چسپد نہ بینم نیک انجامش اس ہولناک مرض کے بارے میں جو ملک میں پھیلتی جاتی ہے لوگوں کی مختلف رائیں ہیں۔ ڈاکٹر لوگ جن کے خیالات فقط جسمانی تدابیر تک محدود ہیں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زمین میں محض قدرتی اسباب سے ایسے کیڑے پیدا ہو گئے ہیں کہ اول چوہوں پر اپنا بداثر پہنچاتے ہیں۔ اور پھر انسانوں میں سلسلہ موت کا جاری ہو جاتا ہے۔ اور مذہبی خیالات سے اس بیماری کو کچھ تعلق نہیں بلکہ چاہیے کہ اپنے گھروں اور نالیوں کو ہر ایک قسم کی گندگی اور عفونت سے بچاویں اور صاف رکھیں اور فنائل وغیرہ کے ساتھ پاک کرتے رہیں اور مکانوں کو آگ سے گرم رکھیں اور ایسا بناویں جن میں ہوا بھی پہنچ سکے اور روشنی بھی۔ اور کسی مکان میں اس قدر لوگ نہ رہیں کہ اُن کے منہ کی بھاپ اور پاخانہ پیشاب وغیرہ سے کیڑے بکثرت پیدا ہو جائیں۔ اور رڈی غذا ئیں نہ کھائیں۔ اور سب سے بہتر علاج یہ ہے کہ ٹیکا کرالیں۔ اور اگر مکانوں میں چوہے مُردہ پاویں تو ان مکانوں کو چھوڑ دیں۔ اور بہتر ہے کہ باہر کھلے میدانوں میں رہیں اور میلے کچیلے کپڑوں سے پر ہیز کریں۔ اور اگر کوئی شخص کسی متاثر اور آلودہ مکان سے اُن کے شہر یا گاؤں میں آوے تو اُس کو اندر حاشیہ۔ طبابت کے قواعد کے رُو سے طاعون کی بیماری کی شناخت کے لئے ضروری ہے کہ جس بد قسمت گاؤں یا شہر میں یا اُس کے کسی حصہ میں یہ مہلک بیماری پھوٹ پڑے اُس میں کئی روز پہلے اُس سے مرے ہوئے چوہے پائے جائیں۔ پس اگر مثلاً محض آپ سے کسی گاؤں میں چند موت کی وارداتیں ہو جائیں اور چوہے مرتے نہ دیکھے جائیں تو وہ طاعون نہیں ہے بلکہ محرقہ کی قسم کا ایک مہلک تپ ہے ۔ منہ