چشمۂ مسیحی — Page 393
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۸۹ چشمه مسیحی رکھا ہے جو دوسروں کو روشن کرتا ہے اور اپنی روشنی کا اثر ڈال کر دوسروں کو اپنی مانند بنادیتا ہے اور اگر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں فیض روحانی نہیں تو پھر دنیا میں آپ کا مبعوث ہونا ہی عبث ہوا اور دوسری طرف خدا تعالیٰ بھی دھوکا دینے والا ٹھہرا جس نے دعا تو یہ سکھلائی کہ تم تمام نبیوں کے کمالات طلب کرو مگر دل میں ہرگز یہ ارادہ نہیں تھا کہ یہ کمالات دیئے جائیں گے بلکہ یہ ارادہ تھا کہ ہمیشہ کے لئے اندھا رکھا جائے گا۔ لیکن اے مسلمانو! ہشیار ہو جاؤ کہ ایسا خیال سراسر جہالت اور نادانی ہے اگر اسلام ایسا (۷۵) ہی مردہ مذہب ہے تو کس قوم کو تم اس کی طرف دعوت کر سکتے ہو؟ کیا اس مذہب کی لاش جاپان لے جاؤ گے یا یورپ کے سامنے پیش کرو گے؟ اور ایسا کون بیوقوف ہے جو ایسے مردہ مذہب پر عاشق ہو جائے گا جو بمقابلہ گذشتہ مذہبوں کے ہر ایک برکت اور روحانیت سے بے نصیب ہے ۔ گذشتہ مذہبوں میں عورتوں کو بھی الہام ہوا جیسا کہ موسی کی ماں اور مریم کو مگر تم مرد ہو کر ان عورتوں کے برابر بھی نہیں بلکہ اے نادانو !! اور آنکھوں کے اندھو ! ! ! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سید و مولی (اس پر ہزار ہا سلام) اپنے افاضہ کے رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں کیونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آکر ختم ہو گیا اور اب وہ قومیں اور وہ مذہب مردے ہیں۔ کوئی اُن میں زندگی نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔ اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس امت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنی انسان کو مسیح بنا سکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا۔ اب پھر ہم اپنے اصل کلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ اسلام نے جو