چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 392

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۸۸ چشمه سیحی تاریکی کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اور پھر دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیض (۳) سے ایسا اپنے تئیں محروم جانتے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ زندہ چراغ نہیں ہیں بلکہ مُردہ چراغ ہیں جن کے ذریعہ سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہو سکتا۔ وہ اقرار رکھتے ہیں کہ مولتی نبی زندہ چراغ تھا جس کی پیروی سے صد بانبی چراغ ہو گئے اور مسیح اس کی پیروی تمیں برس تک کر کے اور توریت کے احکام کو بجالا کر اور موسی کی شریعت کا جو اپنی گردن پر لے کر نبوت کے انعام سے مشرف ہوا مگر ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کسی کو کوئی روحانی انعام عطا نہ کر سکی بلکہ ایک طرف تو آپ حسب آیت مَا كَانَ مُحَمَّدُ ابا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُم لے اولاد نرینہ سے جو ایک جسمانی یاد گار تھی محروم رہے اور دوسری طرف روحانی اولاد بھی آپ کو نصیب نہ ہوئی جو آپ کے روحانی کمالات کی وارث ہوتی اور خدا تعالیٰ کا یہ قول وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللبِينَ " بے معنی رہا۔ ظاہر ہے کہ زبان عرب میں لکن کا لفظ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی جو امر حاصل نہیں ہو سکا اس کے حصول کی دوسرے پیرایہ میں خبر دیتا ہے جس کے رو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی مگر روحانی طور پر آپ کی اولاد (۷۴) بہت ہوگی اور آپ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں یعنی آئندہ کوئی نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مُہر کے کسی کو حاصل نہیں ہو گا۔ غرض اس آیت کے یہ معنے تھے جن کو الٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا گیا حالانکہ اس انکار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سراسر مذمت اور منقصت ہے کیونکہ نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتع کردے اور روحانی امور میں اس کی پوری پرورش کر کے دکھلاوے۔ اسی پرورش کی غرض سے نبی آتے ہیں اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خداشناسی کا دودھ پلاتے ہیں۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہو سکتی مگر خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر ٢٠١ الاحزاب : ۴۱