چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 391

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۸۷ چشمه مسیحی بھارا تارنے کے لئے دوزخ میں بھی گیا تھا اور وہ اپنے بندوں کو گنا ہوں سے نجات نہیں د سکتا تھا جب تک آپ ان کے عوض نہ مرتا اور تین دن کے لئے دوزخ میں نہ جاتا اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سورہ فاتحہ میں ہمیں تمام نبیوں کی متفرق نعمتوں کے وارث ٹھہراتا ہے اور اس امت کو خیر الامم قرار دیتا ہے۔ پس بلاشبہ خدا تعالیٰ کا حسن اور احسان جو سر چشمہ محبت کا ہے سب سے زیادہ اس پر ایمان لانا ہمارے حصہ میں آگیا ہے اور مسلمانوں میں سے سخت نادان اور بدقسمت وہ لوگ ہیں جو اس کے کمال حسن اور احسان کے انکاری ہیں۔ ایک طرف تو اس کی مخلوق کو اس کی صفات خاصہ میں حصہ دار ٹھہرا کر تو حید باری پر دھبہ لگاتے اور اس کے حسن وحدانیت کی چمک کو شراکت غیر سے مسلمانوں کو خاص کر اہل حدیث کو توحید کا بڑا دعویٰ تھا مگر افسوس اُن پر بھی یہی شل صادق آئی کہ مچھر چھاننا اور اونٹ نگلنا ۔ کیا ایسے لوگوں کو ہم مو حد کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف تو حضرت عیسی کو خدا تعالی کی طرح وحدہ لاشریک سمجھتے ہیں۔ وہی ہے جو مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور وہی ہے جو کسی دن مع جسم عصری زمین پر آئے گا اور اُسی نے پرندے پیدا کئے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھا کر بار بار سوال کیا کہ آپ مع جسم عصری آسمان پر چڑھ کے دکھلائیے ہم ابھی ایمان لائیں گے ان کو جواب دیا گیا کہ قُل سُبْحَانَ رَبّى هَل كُنتُ إِلا بشر از سُولاً یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عبد شکنی سے پاک ہے اور ہمو جب اس کے قول کے مع جسم عصری آسمان پر نہیں جا سکتا کیونکہ یہ امر خدا کے وعدہ کے بر خلاف ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتا ہے کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ * وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَر پس کیا ہم سمجھیں کہ حضرت عیسی کو آسمان پر پہنچانے کے وقت خدا تعالی کو اپنا یہ وعدہ یاد نہ رہا یا عیسی بشر نہیں تھا۔ اگر عیسی مع جسم عنصری آسمان پر گیا ہے تو قرآن کے بیان کے رو سے لازم آتا ہے کہ عیسی بشر نہیں تھا۔ پھر دوسری طرف ان مدعیان اسلام نے دجال کے بھی وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے اس کا خدا ہونا لازم آتا ہے۔ یہ تو حید اور یہ دعوی ۔ افسوس ! منه ا بنی اسرائیل ۹۴ الاعراف : ٢٦ الاعراف: ۲۵