چشمۂ مسیحی — Page 386
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۸۲ چشمه مسیحی نزدیک ایسا شخص کافر ہے کیونکہ قیامت تک خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے۔ تعجب کہ یہ لوگ اس قدر تو مانتے ہیں کہ اب بھی خدا تعالیٰ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا مگر یہ نہیں مانتے کہ اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ پہلے بولتا تھا حالانکہ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں بقیه حاشیه کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا۔ اس کے مقابل پر اگر کوئی شخص بجائے تمہیں برس کے پچاس برس بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے تب بھی وہ مرتبہ نہیں پاسکتا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کوئی کمال نہیں بخش سکتی اور نہیں خیال کرتے کہ اس صورت میں لازم آتا ہے کہ خدا کا یہ دعا سکھلانا کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ایک دھوکا دینا ہے اور ان کا اعتقاد ہے کہ بانتہارا اپنی دوبارہ آمد کے خاتم الانبیاء عیسی ہی ہے اور وہی آخری قاضی اور حکم ہے اور نہیں سمجھتے کہ اس پیشگوئی سے خدا کا تو یہ مقصود تھا کہ جیسا کہ اسی امت میں مثیل یہود پیدا ہوں گے ایسا ہی اسی امت میں سے مثیل عیسی بھی پیدا کرے جو ایک پہلو سے امتی ہو اور ایک پہلو سے نبی ہو۔ عیسی بن مریم تو ان دونوں ناموں کا جامع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ امتی وہ ہوتا ہے جو محض نبی متبوع کی پیروی سے کمال پاوے مگر عینی تو پہلے کمال پا چکا (۲) اور دوسرا گناہ ان لوگوں کا یہ ہے کہ قرآن شریف کی نص صریح کے برخلاف حضرت عیسی کو زندہ تصور کرتے ہیں۔ قرآن شریف میں صریح یہ آیت موجود ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۔ اور اس آیت کے معنے یہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جب کہ تو نے مع جسم عنصری مجھ کو آسمان پر اُٹھا لیا۔ یہ عجیب لغت ہے جو حضرت عیسی سے ہی خاص ہے۔ افسوس اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح ہے یہ سوال حضرت عیسی سے قیامت کے دن ہوگا۔ پس ان معنوں سے جو لفظ متوفیک کے کئے جاتے ہیں لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی تو فوت ہونے سے پہلے ہی قیامت کے دن اللہ جل شانہ کے سامنے حاضر ہو جائیں گے اور اگر کہو کہ آیت فلما توفیتنی کے یہ معنی ہیں کہ جبکہ تو نے مجھ کو وفات دے دی تو پھر مجھے کو کیا خبر تھی کہ میرے مرنے کے بعد میری امت نے کیا طریق اختیار کیا تو یہ معنے بھی اُن کے عقیدہ کی رُو سے ملاط ٹھہرتے ہیں اور دونوں معنوں الفاتحة : المائدة : ١١٨