چشمۂ مسیحی — Page 381
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷۷ چشمه مسیحی آپ کی وفات کے بعد جیسا کہ یہودیوں کی تاریخ میں لکھا ہے اس کے عیسائی ہونے کا موجب اس کے اپنے بعض نفسانی اغراض تھے جو یہودیوں سے وہ پورے نہ ہو سکے۔ اس لئے وہ ان کو خرابی پہنچانے کے لئے عیسائی ہو گیا اور ظاہر کیا کہ مجھے کشف کے طور پر حضرت مسیح ملے ہیں اور میں اُن پر ایمان لایا ہوں اور اُس نے پہلے پہل تثلیث کا خراب پودہ دمشق میں لگایا۔ اور یہ پولوی تثلیث دمشق سے ہی شروع ہوئی ۔ اسی کی طرف احادیث نبویہ میں اشارہ کر کے کہا گیا کہ آنے والا مسیح دمشق کی مشرقی طرف نازل ہوگا یعنی اس کے آنے پر تثلیث کا خاتمہ ہوگا اور انسانی دل توحید کی طرف رغبت کرتے جائیں گے اور مشرقی طرف سے مسیح کا نازل ہونا اُس کے غلبہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ روشنی جب ظاہر ہوتی ہے تو تاریکی پر غالب آ جاتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر پولوس حضرت مسیح کے بعد ایک رسول کے رنگ میں ظاہر ہونے ﴿۲۰﴾ والا تھا جیسا کہ خیال کیا گیا ہے تو ضرور حضرت مسیح اس کی نسبت کچھ خبر دیتے خاص کر کے اِس وجہ سے تو خبر دینا نہایت ضروری تھا کہ جبکہ پولوس حضرت عیسی کی حیات کے تمام زمانہ میں حضرت عیسی سے سخت برگشتہ رہا اور ان کے دکھ دینے کے لئے طرح طرح کے منصوبے کرتا رہا تو ایسا شخص ان کی وفات کے بعد کیوں کرامین سمجھا جا سکتا ہے۔ بجز اس کے کہ خود حضرت مسیح کی طرف سے اس کی نسبت کھلی کھلی پیشگوئی پائی جائے اور اس میں صاف طور پر درج ہو کہ اگر چہ پولوس میری حیات میں میرا سخت مخالف رہا ہے اور مجھے دکھ دیتا رہا ہے لیکن میرے بعد وہ خدا تعالیٰ کا رسول اور نہایت مقدس آدمی ہو جائے گا۔ بالخصوص جبکہ پولوس ایسا آدمی تھا کہ اس نے موسی کی توریت کے برخلاف اپنی طرف سے نئی تعلیم دی۔ سؤر حلال کیا۔ ختنہ کی رسم تو توریت میں ایک مؤکد رسم تھی اور تمام نبیوں کا یادر ہے کہ قادیان جو میری سکونت کی جگہ ہے عین دمشق کی شرقی طرف ہے۔ سو آج وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ منہ