چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 382

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷۸ چشمه مسیحی ختنہ ہوا تھا اور خود حضرت مسیح کا بھی ختنہ ہوا تھا۔ وہ قدیم حکم الہی منسوخ کر دیا اور توریت کی توحید کی جگہ تثلیث قائم کر دی اور توریت کے احکام پر عمل کرنا غیر ضروری ٹھہرایا اور 1) بیت المقدس سے بھی انحراف کیا۔ تو ایسے آدمی کی نسبت جس نے موسوی شریعت کو زیر وزبر کر دیا ضرور کوئی پیشگوئی چاہیے تھی ۔ پس جبکہ انجیل میں پولوس کے رسول ہونے کے بارے میں خبر نہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام سے اُس کی عداوت ثابت اور توریت کے ابدی احکام ا کا وہ مخالف تو اس کو کیوں اپنا مذہبی پیشوا بنایا گیا کیا اس پر کوئی دلیل ہے؟؟ پھر معرفت کے بعد بڑی ضروری نجات کے لئے محبت الہی ہے۔ یہ بات نہایت واضح اور بد یہی ہے کہ کوئی شخص اپنے محبت کرنے والے کو عذاب دینا نہیں چاہتا بلکہ محبت محبت کو جذب کرتی اور اپنی طرف کھینچتی ہے۔ جس شخص سے کوئی سچے دل سے محبت کرتا ہے اس کو یقین کرنا چاہیے کہ وہ دوسرا شخص بھی جس سے محبت کی گئی ہے اس سے دشمنی نہیں کر سکتا بلکہ اگر ایک شخص ایک شخص کو جس سے وہ اپنے دل سے محبت رکھتا ہے اپنی اس محبت سے اطلاع بھی نہ دے تب بھی اس قدر اثر تو ضرور ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سے دشمنی نہیں کر سکتا ۔ اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ دل کو دل سے راہ ہوتا ہے اور خدا کے نبیوں اور رسولوں میں جو ایک قوت جذب اور کشش پائی جاتی ہے اور ہزار ہا لوگ ان کی طرف کھینچے جاتے اور ان سے محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی جان بھی اُن پر فدا کرنا چاہتے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی اُن کے دل میں ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ماں سے بھی زیادہ انسانوں سے پیار کرتے ہیں اور اپنے تئیں دکھ اور درد میں ڈال کر بھی اُن کے آرام کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ آخر ان کی سچی کشش سعید دلوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیتی ہے پھر جبکہ انسان با وجود یکہ وہ عالم الغیب نہیں دوسرے شخص کی مخفی محبت پر اطلاع پا لیتا ہے تو پھر کیونکر خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے کسی کی خالص محبت سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ محبت عجیب چیز ہے اس کی آگ گناہوں کی آگ کو جلاتی اور معصیت کے شعلہ کو بھسم کر دیتی ہے