چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 379

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷۵ چشمه مسیحی کی پیروی ضروری نہیں اور پھر ایک اور گند اس مذہب میں ڈال دیا کہ اُن کے لئے سو ر کھانا حلال کر دیا حالانکہ حضرت مسیح انجیل میں سؤر کو نا پاک قرار دیتے ہیں تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔ پس جب کہ پاک تعلیم کا نام حضرت مسیح نے موتی رکھا ہے تو اس مقابلہ سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ پلید کا نام انہوں نے سور رکھا ہے اصل بات یہ ہے کہ یونانی سؤر کو کھایا کرتے تھے جیسا کہ آج کل تمام یورپ کے لوگ سور کھاتے ہیں۔ اس لئے پولوس نے یونانیوں کے تالیف قلوب کے لئے سور کبھی اپنی جماعت (۵۷) کے لئے حلال کر دیا حالانکہ توریت میں لکھا ہے کہ وہ ابدی حرام ہے اور اس کا چھونا بھی نا جائز ہے ۔ غرض اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ہوئیں ۔ حضرت مسیح تو وہ بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک انسان کہے مگر پولوس نے اُن کو خدا بنا دیا جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت مسیح کو کہا کہ اے نیک اُستاد ! انہوں نے اُس کو کہا کہ تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ اُن کا وہ کلمہ جو صلیب پر چڑھائے جانے کے وقت اُن کے منہ سے نکلا کیسا تو حید پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا۔ ایلی ایلی لما سبقتانی یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ کیا جو شخص اس عاجزی سے خدا کو پکارتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ خدا میرا رب ہے اُس کی نسبت کوئی عقلمند گمان کر سکتا ہے کہ اس نے در حقیقت خدائی کا دعویٰ کیا تھا؟ اصل بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سے محبت ذاتیہ کا تعلق ہوتا ہے بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ اُن سے ایسے کلمے اُن کی نسبت کہلا دیتا ہے کہ نادان لوگ ان کی ان کلموں سے خدائی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میری نسبت مسیح سے بھی زیادہ وہ کلمات فرمائے گئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے (۵۸) ی ایک دفعہ کشفی رنگ میں میں نے دیکھا کہ میں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا اور پھر میں نے کہا