چشمۂ مسیحی — Page 375
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷۱ چشمه مسیحی اب ہم اس جملہ معترضہ سے اپنے اصل مطلب کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ کہ آریوں کے اصول کے مطابق اُن کا پر میشر عالم الغیب نہیں ہوسکتا اور ان کے پاس پر میشر کے عالم الغیب ہونے پر کوئی دلیل نہیں ۔ ایسا ہی عیسائی عقیدہ کے رو سے خدا تعالیٰ عالم الغیب نہیں ہے کیونکہ جس حالت میں حضرت عیسیٰ کو خدا قرار دیا گیا ہے اور وہ خود اقرار کرتے ہیں کہ میں جو خدا کا بیٹا ہوں۔ مجھے قیامت کا علم نہیں۔ پس اس سے بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ خدا کو قیامت کا علم نہیں کہ کب آئے گی۔ پھر دوسری شاخ معرفت صحیحہ کی خدا تعالیٰ کی کامل قدرت کا شناخت کرنا ہے لیکن اس ☆ شاخ میں بھی آریہ سماج والے اور حضرات پادریان اپنے خدا پر داغ لگا رہے ہیں۔ آریہ سماج والے اس طرح سے کہ وہ اپنے پر میشر کو روحوں اور ذرات عالم کے پیدا کرنے ( 21 ) پر قادر ہی نہیں جانتے اور نہ اس بات پر قادر سمجھتے ہیں کہ اُن کا پر میشر کسی روح کو جاودانی مکتی ے سکے ۔ ایسا ہی حضرات پادری صاحبان بھی اپنے خدا کو قادر نہیں سمجھتے کیونکہ اُن کا خدا شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا ہمیشہ اپنی قدرت کے نمونے ہمیں دکھاتا ہے تا ہمیشہ ہمارا ایمان تازہ ہو جیسا کہ اُس نے ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ سے پہلے چار دفعہ متفرق زمانوں میں مجھے اپنی وحی کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ پنجاب میں ایک سخت زلزلہ آنے والا ہے۔ سو وہ شدید زلزله ۴ ر ا پریل ۱۹۰۵ء کو منگل کی صبح کو آگیا اور وہ موسم بہار تھا۔ اور پھر اس خدائے قادر نے مجھے اطلاع دی کہ پھر موسم بہار میں شدید زلز لے آنے والے ہیں۔ سو ۲۸ / فروری ۱۹۰۶ء کو عین موسم بہار میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ چنانچہ کوہ منصوری میں اس قدر اس کا صدمہ محسوس ہوا کہ لوگ بے حواس ہو گئے ۔ اور انہیں ایام میں امریکہ کے بعض حصوں میں بھی ایک شدید زلزلہ آیا جس سے کئی شہر ہلاک ہو گئے۔ پس خدا در حقیقت وہی خدا ہے جواب بھی اپنی وحی کے ذریعہ سے اپنی زندہ قدرتیں ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ اور ایسی ہزار ہا پیشگوئیاں ہیں جو خدا کی وحی کے مطابق جو مجھ پر ہوئی ظہور میں آئیں۔ منہ