چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 374

روحانی خزائن جلد ۲۰ ٣٧٠ چشمه مسیحی اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائیں گی اور کبھی ان کی تجلی نہیں ہوگی کیونکہ صفات الہیہ کا تعطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی اُم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور غصبیہ کے رنگ میں جوش مارتی ہے ۲۹) اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔ خدا ایک چڑ چڑہ انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ نخواہ عذاب دینے کا شائق ہو اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔ اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔ یہ تو آریہ سماج والوں کی خدا دانی کی تعلیم ہے اور اس تعلیم کے رو سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی جناب میں کوئی عزت پاتا ہے۔ خواہ اوتار بن جاتا ہے یا رشی اور خواه خود ایسا شخص جس پر وید نازل ہوں اس کی عزت کسی بھروسہ کے لائق نہیں ہوتی بلکہ وہ ہزار ہا مرتبہ عزت کی کرسی سے نیچے ڈال دیا جاتا ہے۔ اور یا تو وہ پر میشر کا بڑا پیارا اور مقرب اور اوتا راور رشی اور ایسا ایسا تھا اور یا پھر اواگون کے چکر میں آکر کوئی کیڑا مکوڑا بن جاتا ہے۔ جاودانی نجات کبھی اس کو نصیب نہیں ہوتی۔ اس جگہ بھی مرنے کا دغدغہ ۔ پھر مرنے کے بعد دوبارہ اواگون کے عذاب کا دغدغہ۔ غرض یہ تو خدا تعالیٰ کا حق ادا کیا گیا۔ ایک طرف تمام ارواح اور ذرات قدیم اور خود بخود ہونے میں اس کے شریک ٹھہرائے گئے ۔ اور دوسری طرف پر میشر کو ایسا بخیل قرار دیا گیا کہ باوجود یکہ طاقت رکھتا ہے اور سرب شکتی مان ہے مگر (۵۰) پھر بھی کسی کو نجات ابدی دینا نہیں چاہتا۔ پھر انسانوں کو پاک ہونے کے بارے میں جو کچھ وید نے سکھلایا ہے اس کی تمام حقیقت تو نیوگ کی تعلیم سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ آریہ اپنی منکوحہ عورت کو اولاد کی خواہش سے کسی دوسرے مرد سے ہم بستر کرا سکتا ہے اور جب تک وہ عورت اس شدھ کام سے گیارہ بچے حاصل نہ کر لے وہ اس بیگانہ شخص سے ہر روز ہم بستر رہ سکتی ہے