چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 373

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۹ چشمه مسیحی اور یہ بات نہایت نا معقول اور خدائے عزوجل کے صفات کا ملہ کے برخلاف ہے کہ دوزخ میں ڈالنے کے بعد ہمیشہ اس کی صفات قہر یہ ہی جلوہ گر ہوتی رہیں اور کبھی صفت رحم اور عفو کی جوش نہ مارے اور صفات کرم اور رحم کے ہمیشہ کے لئے معطل کی طرح رہیں بلکہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مدت دراز تک جس کو انسانی کمزوری کے مناسب حال استعارہ کے رنگ میں ابد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے دوزخی دوزخ میں رہیں گے۔ اور پھر صفت رحم اور کرم مجتبی فرمائے گی اور خدا اپنا ہاتھ دوزخ میں ڈالے گا اور جس قدر خدا کی مٹھی میں آجائیں گے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ پس اس حدیث میں بھی آخر کا رسب کی نجات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا کی مٹھی (۴۸) خدا کی طرح غیر محدود ہے جس سے کوئی بھی باہر نہیں رہ سکتا۔ یادر ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغناء ذاتی کے پر تو ہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پر تو وہ اس پر پڑتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ لے۔ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے پھر صفات کرم بقیه حاشیه لئے ہے ایسا ہی خدا کی ابدیت کے موافق ہمیشہ دوزخی دوزخ میں رہیں۔ آخر ان کے قصوروں میں خدا کا بھی دخل ہے کیونکہ اسی نے ایسی قو تیں پیدا کیں جو کمزور تھیں ۔ پس دوزخیوں کا حق ہے جو اس کمزوری سے فائدہ اُٹھاویں جو ان کی فطرت کو خدا کی طرف سے ملی ہے۔ منہ نجات سے یہ لازم نہیں آتا کہ سب لوگ ایک مرتبہ پر ہو جائیں گے۔ بلکہ جن لوگوں نے دنیا میں خدا کو اختیار کر لیا اور خدا کی محبت میں محو ہو گئے اور صراط مستقیم پر قائم ہو گئے ان کے خاص مراتب ہیں ۔ دوسرے لوگ اس مرتبہ تک پہنچ نہیں سکتے ۔ منہ الرحمن : ٣٠