چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 372

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۸ چشمه مسیحی اور بموجب ان کے عقیدہ کے پرمیشر دیا لو اور نیا کاری تو ضرور ہے مگر پھر بھی وہ نہ رحم کرتا ہے نہ انصاف کیونکہ وہ محض اپنی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے مکتی یافتہ روحوں کو ہمیشہ کے لئے نجات نہیں دیتا۔ وجہ یہ اگر ہمیشہ کے لئے روحوں کو نجات دے دے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کسی وقت تمام روحیں نجات پا کر بار بار دنیا میں آنے سے فراغت پا جائیں اور پر میشر کی یہ خواہش ہے کہ دنیا کا سلسلہ بھی جاری رہے تا اس کی حکومت کی رونق بنی رہے اس لئے وہ کسی روح کو ہمیشہ کی نجات دینا ہی نہیں چاہتا بلکہ گو کوئی روح اوتار یا رشی یا سدھ کے درجہ تک بھی پہنچ گئی ہو پھر بھی بار بار اس کو اواگون کے چکر میں ڈالتا ہے مگر کیا ہم خداوند قادر اور کریم کی طرف ایسے صفات رذیلہ منسوب کر سکتے ہیں؟ کہ ہمیشہ وہ اپنے بندوں کو دکھ دے کر خوش ہوتا ہے مگر کبھی ابدی آرام ان کو دینا نہیں چاہتا۔ خدائے قدوس اور پاک کی نسبت اس قدر بخل منسوب نہیں ہو سکتا۔ افسوس ایسے بخل کی تعلیم عیسائیوں کی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ جو شخص عیسی کو خدا نہیں کہے گا وہ جاودانی جہنم میں پڑے گا مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی بلکہ وہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ کفار ایک مدت دراز تک عذاب میں رہ کر آخر وہ خدا تعالیٰ کے رحم سے حصہ لیں گے جیسا کہ حدیث میں بھی ہے يَأْتِی عَلَی م جهنم زمانٌ لَيْسَ فِيْهَا احد و نسيم الصبا تحرک ابوابها یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی نہیں ہوگا اور نسیم صبا اس کے کواڑ ہلائے گی ۔ اسی کے مطابق قرآن شریف میں یہ آیت ہے إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ یعنی دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن جب خدا چاہے گا تو ان کو دوزخ سے مخلصی دے گا کیونکہ تیرا رب جو چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ یہ تعلیم خدا تعالیٰ کی صفات کا ملہ کے مطابق ہے کیونکہ اس کی صفات جلالی بھی ہیں اور جمالی بھی اور وہی زخمی کرتا ہے اور وہی پھر مرہم لگاتا ہے یہ بات فی نفسہ غیر معقول ہے کہ انسان کو ایسی ابدی سزا دی جائے کہ جیسا خدا ہمیشہ کے هود : ۱۰۸