چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 367

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۳ چشمه مسیحی بے دلیل ہے۔ اور ہم ابھی یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ اگر ذرات اور ارواح کو قدیم سے انادی اور خود بخود مانا جائے تو اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کہ خدا تعالیٰ کو ان کے پوشیدہ خواص اور دقیق در دقیق طاقتوں اور قوتوں کا علم ہے۔ اور یہ کہنا کہ چونکہ وہ ان کا پر میشر ہے اس لئے اس کو ان کے پوشیدہ خواص اور طاقتوں کا علم ہے یہ صرف ایک دعوی ہے جس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی گئی اور کوئی بر بان پیش نہیں کی گئی اور نہ کوئی رشتہ عبودیت اور الوہیت کا ثابت کیا گیا بلکہ وہ ان کا پر میشر ہی نہیں۔ بھلا جس کا کوئی رشتہ خالق ہونے کا ذرات اور روحوں سے نہیں وہ ان کا پر میشر کا ہے کا ہوا۔ اور کن معنوں سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ روحوں اور ذرات کا پر میشر ہے اور یہ اضافت کس بنا پر ہو سکتی ہے کہ خدا روحوں اور ذرات کا پر میشر ہے۔ یا تو اضافت ملک کی ہوتی ہے جیسے کہا جائے کہ غلام زید یعنی زید کا غلام ۔ سومملوک (۳۹) ہونے کی کوئی وجوہ چاہئیں اور کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں آزاد چیزوں کو جو اپنے قومی قدیم سے آپ رکھتی ہیں پر میشر کی بلا وجہ ملک قرار دیا جائے اور یا اضافت کسی رشتہ کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ کہا جائے کہ پسر زید لیکن جب کہ ارواح اور ذرات کا پر میشر کے ساتھ کوئی رشتہ عبودیت اور ربوبیت نہیں تو یہ اضافت بھی ناجائز ہے اور اس حالت میں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ایسے بے تعلق روحوں کے لئے نہ تو پر میشر کا وجود کچھ مفید ہے اور نہ اس کا عدم کچھ مضر ہے بلکہ ایسی حالت میں نجات جس کو آریہ سماج والے مکتی کہتے ہیں بالکل غیر ممکن اور ممتنع امر ہے کیونکہ نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے۔ پھر جس حالت میں ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر اُن کی فطرتی محبت پر میشر سے کیونکر ہو سکتی ہے اور کب اور کس وقت پر میشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی ۔ یہ تو غیر ممکن ہے وجہ یہ کہ فطرتی محبت اُس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو جیسا کہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ