چشمۂ مسیحی — Page 361
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۷ چشمه مسیحی کہ یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ نبیوں کے نام تبر کا ر کھے جاتے تھے۔ سوقرین قیاس ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہوگا جس کا نام ہارون ہو گا اور اس بیان کو محل اعتراض سمجھنا سراسر حماقت ہے۔ اور قصہ اصحاب کہف وغیرہ اگر یہودیوں اور عیسائیوں کی پہلی کتابوں میں بھی ہو اور اگر فرض کر لیں کہ وہ لوگ ان قصوں کو ایک فرضی قصے سمجھتے ہوں تو اس میں کیا حرج ہے۔ آپ کو یادر ہے کہ ان لوگوں کی مذہبی اور تاریخی کتابیں اور خود ان کی آسمانی کتابیں تاریکی (۲۹ میں پڑی ہوئی ہیں۔ آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ یورپ میں ان کتابوں کے بارے میں آج کل کس قدر ماتم ہو رہا ہے۔ اور سلیم طبیعتیں خود بخو دا سلام کی طرف آتی جاتی ہیں ۔ اور بڑی بڑی کتابیں اسلام کی حمایت میں تالیف ہو رہی ہیں۔ چنانچہ کئی انگریز امریکہ وغیرہ ممالک کے ہمارے سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ آخر جھوٹ کب تک چھپا رہے۔ پھر سوچنے کا مقام ہے کہ وحی الہی کو ایسی کتابوں کے اقتباس کی کیا ضرورت پیش آئی تھی ۔ خوب یا درکھو کہ یہ لوگ اندھے ہیں اور ان کی تمام کتابیں اندھی ہیں تعجب کہ جس حالت میں قرآن شریف ایسے جزیرہ میں نازل ہوا جس کے لوگ عموماً عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں سے بے خبر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود امی تھے تو پھر یہ تہمتیں آنجناب پر لگانا ان لوگوں کا کام ہے جو خدا سے بالکل بے خوف ہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض ہو سکتے ہیں تو پھر حضرت عیسی پر کس قد راعتراض ہوں گے جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور یہودیوں کی تمام کتابوں طالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا اور جن کی انجیل در حقیقت بائبل اور طالمود کی عبارتوں سے ایسی پر ہے کہ ہم لوگ محض قرآن شریف کے ارشاد کی وجہ سے ان پر ایمان لاتے ہیں ورنہ ﴿۳۰﴾ انا جیل کی نسبت بڑے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ اور افسوس کہ انجیلوں میں ایک بات بھی ایسی نہیں کہ جو بلفظہ پہلی کتابوں میں موجود نہیں ۔ اور پھر اگر قرآن نے بائبل کی متفرق سچائیوں اور صداقتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا تو اس میں کون سا استبعاد عقلی ہوا۔ اور کیا غضب آ گیا۔ کیا آپ کے نزدیک یہ محال ہے کہ یہ تمام قصے قرآن شریف کے