چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 360

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۶ چشمه مسیحی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسی یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا ۔ اب (۲۷) اعتراض یہ ہے کہ اگر در حقیقت معجزہ کے طور پر یہ عمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا ؟ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم مدت العمر ہیکل کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کر کے اور اس کو خدمت بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجار کی بیوی بنایا گیا ؟ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ توریت کے رو سے بالکل حرام اور نا جائز تھا کہ حمل کی حالت میں کسی عورت کا نکاح کیا جائے۔ پھر کیوں خلاف حکم تو ریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف سے کیا گیا حالانکہ یوسف اس نکاح سے ناراض تھا اور اس کی پہلی بیوی موجود تھی۔ وہ لوگ جو تعدد ازواج سے منکر ہیں شاید اُن کو یوسف کے اس نکاح کی اطلاع نہیں۔ غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت نا جائز جمل کا شبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اگر چہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کے رو سے یہ اعتقادر کھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تا خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسی ۲۸ کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قومی سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ القصہ حضرت مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا ورنہ جو عورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی۔ افسوس ! اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود نا بیکار نے نا جائز تعلق کے شبہات شائع کئے ۔ پس اگر کوئی اعتراض قابل حل ہے تو یہ اعتراض ہے نہ کہ مریم کا ہارون بھائی قرار دینا کچھ اعتراض ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ ہارون نبی کی مریم ہمشیرہ تھی۔ صرف ہارون کا نام ہے نبی کا لفظ وہاں موجود نہیں۔ اصل بات یہ ہے