چشمۂ مسیحی — Page 359
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۵ چشمه سیحی تو ایسا کفرمنہ پر نہ لاتے ۔ خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی (۲۵) برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو۔ اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔ غرض آپ پر لازم ہے کہ اس راہ کی طرف توجہ کرو کہ کیوں کر ایک سچا مذ ہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے شناخت ہو سکتا ہے۔ پس یادر ہے کہ وہی سچا مذہب ہے جس کے ذریعہ سے خدا کا پتہ لگتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں صرف انسانی کوششیں پیش کی جاتی ہیں گویا انسان کا خدا پر احسان ہے جو اس نے اس کا پتہ دیا مگر اسلام میں خود خدا تعالیٰ ہر ایک زمانہ میں اپنی أَنَا الْمَوْجُوْدُ کی آواز سے اپنی ہستی کا پتہ دیتا ہے جیسا کہ اس زمانہ میں بھی وہ مجھ پر ظاہر ہوا۔ پس اس رسول پر ہزاروں سلام اور برکات جس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو شناخت کیا۔ بالآخر میں دوبارہ افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کا یہ قول کہ حضرت مریم کا آخت ہارون ہونا آپ پر بداثر ڈالتا ہے میری نگاہ میں آپ کی بہت نا واقفیت ظاہر کرتا ہے۔ اس بے ہودہ اعتراض پر پہلے علماء نے بھی بہت کچھ لکھا ہے ۔ اگر استعارہ کے رنگ میں یا اور بنا پر (۲۲) خدا تعالیٰ نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہوا جبکہ قرآن شریف بجائے خود بار بار بیان کر چکا ہے کہ ہارون نبی حضرت موسی کے وقت میں تھا اور یہ مریم حضرت عیسی کی والدہ تھی جو چودہ سو برس بعد ہارون کے پیدا ہوئی تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اُس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے۔ کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ بے ہودہ اعتراض کر کے خوش ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو ۔ عدم علم سے عدم شے تو لازم نہیں آتا مگر یہ لوگ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے۔ دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تھا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہو گیا تب حمل کی حالت میں ہی