چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 356

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۲ چشمه مسیحی جیسا کہ پہلے تھا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ اس زمانہ میں ایسا چپ ہو جائے کہ گویا موجود نہیں۔ اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو یقیناً وہ اب سنتا بھی نہیں گویا اب کچھ بھی نہیں ۔ سوسچا وہی مذہب ہے کہ جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے۔ غرض بچے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجود کی آپ خبر دیتا ہے۔ خدا شناسی ایک نہایت مشکل کام ہے دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کا کام نہیں ہے جو خدا کا پتہ لگاویں کیونکہ زمین و آسمان کو دیکھ کر صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ترکیب محکم اور ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہیے مگر یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے اور ہونا چاہیے اور ہے میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔ پس اس وجود کا واقعی طور پر پستہ دینے والا صرف قرآن شریف ہے جو صرف خداشناسی کی تاکید نہیں کرتا بلکہ آپ دکھلا دیتا ہے۔ اور کوئی کتاب آسمان کے نیچے ایسی نہیں ہے کہ اس پوشیدہ وجود کا پتہ دے۔ مذہب سے غرض کیا ہے !! بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کا ملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو کیونکہ در حقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہوگا اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اُس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع واقسام کے رنگوں میں ظاہر ہوگا اور اصل مقصود اس راہ میں یہ ہے کہ اس خدا کی ہستی پر پورا یقین حاصل ہو اور پھر پوری محبت ہو ۔ اب دیکھنا چاہیے کہ کون سا مذ ہب اور کون سی کتاب ہے جس کے ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہو سکتی ہے۔ انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں۔ اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں مگر تعجب کہ وہ خدا جواب تک اس زمانہ میں بھی سنتا ہے وہ اس زمانہ میں بولنے سے