چشمۂ مسیحی — Page 357
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۳ چشمه مسیحی کیوں عاجز ہو گیا ہے؟ کیا ہم اس اعتقاد پر تسلی پکڑ سکتے ہیں کہ پہلے کسی زمانہ میں وہ بولتا بھی تھا اور سنتا بھی تھا مگر اب وہ صرف سنتا ہے مگر بولتا نہیں۔ ایسا خدا کس کام کا جو ایک انسان کی طرح جو بڑھا ہو کر بعض قومی اس کے بے کار ہو جاتے ہیں۔ امتدادزمانہ کی وجہ سے بعض قومی اس کے بھی بے کار ہو گئے اور نیز ایسا خدا کس کام کا کہ جب تک مٹکی سے باندھ کر اس کو کوڑے نہ لگیں اور اُس کے منہ پر نہ تھوکا جائے اور چند روز اس کو حوالات میں نہ رکھا جائے اور آخر (۲۲) اس کو صلیب پر نہ کھینچا جائے تب تک وہ اپنے بندوں کے گناہ نہیں بخش سکتا ۔ ہم تو ایسے خدا سے سخت بیزار ہیں جس پر ایک ذلیل قوم یہودیوں کی جو اپنی حکومت بھی کھو بیٹھی تھی غالب آگئی ۔ ہم اس خدا کو سچا خدا جانتے ہیں جس نے ایک مکہ کے غریب، بے کس کو اپنا نبی بنا کر اپنی قدرت اور غلبہ کا جلوہ اسی زمانہ میں تمام جہان کو دکھا دیا یہاں تک کہ جب شاہ ایران نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھیجے تو اس قادر خدا نے اپنے رسول کو فر مایا کہ سپاہیوں کو کہہ دے کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو قتل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ ایک طرف ایک شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور اخیر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ رومی کا ایک سپاہی اس کو گرفتار کر کے ایک دو گھنٹہ میں جیل خانہ میں ڈال دیتا ہے اور تمام رات کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور دوسری طرف وہ مرد ہے کہ صرف رسالت کا دعوی کرتا ہے اور خدا اس کے مقابلہ پر باشاد ہوں کو ہلاک کرتا ہے۔ یہ مقولہ طالب حق کے لئے نہایت نافع ہے کہ یار غالب شوکہ تا غالب شوی “۔ ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مردہ مذہب ہے۔ ہم ایسی کتاب سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو مردہ کتاب ہے اور ہمیں ایسا (۲۳) خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے جو مردہ خدا ہے۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں اپنے خدائے پاک کے یقینی اور قطعی مکالمہ سے مشرف ہوں اور قریباً ہر روز مشرف ہوتا ہوں اور وہ خدا جس کو یسوع مسیح کہتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ میں