چشمہٴ معرفت — Page 74
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۴ چشمه معرفت (۲۶) بھلا عقل اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ جو لوگ نہایت قریب زمانہ میں ملتی خانہ سے باہر نکلتے ہیں اُن کے حافظہ اور علوم اور معارف پر ایسے پتھر پڑ جائیں کہ جو لوگ کروڑ ہا برس بعد آتے ہیں اُن کے ساتھ برابر ہو جائیں؟ غرض ہم یہ تو مانتے ہیں کہ جولوگ مکتی کے زمانہ سے کروڑ ہا برس بعد میں آتے ہیں وہ بوجہ زمانہ دراز کی غفلت کے وید و یا کو یاد نہیں رکھتے اور نہ سنسکرت کو یا درکھتے ہیں سب کچھ بھول جاتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے کہ ایسے بچوں کو اگر اُن کے پیدا ہونے کے بعد زبان نہ سکھائی جائے تو وہ بالکل گنگے رہ جاتے ہیں مگر کیا وہ لوگ بھی گنگے ہی رہ سکتے ہیں جو تازہ بتازہ مکتی خانہ سے باہر آتے ہیں اُن کے لئے تو ضرور ہے کہ بغیر حاجت الہام کے سنسکرت کی زبان یاد ہو جو کتی خانہ میں با ہم بولتے تھے اور نیز ضروری ہے کہ سب کو وید از بر ہو کیونکہ وہ مکتی خانہ میں وید ہی تو دن رات پڑھتے رہتے تھے اور کیا کام تھا؟ پھر ہم اصل مدعا کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ یہ بات فی الواقع صحیح اور درست ہے کہ ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان کو ملی تھی مگر وہ وید ہر گز نہیں ہے اور موجودہ وید کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اُس پاک ذات کی توہین ہے۔ اس جگہ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ابتدائے زمانہ میں صرف ایک الہامی کتاب انسانوں کو کیوں دی گئی ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا کتابیں کیوں نہ دی گئیں اس کا جواب یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں انسان تھوڑے تھے اور اس تعداد سے بھی کمتر تھے م یادر ہے کہ الہام یا الہامی کتاب کا لفظ جو بار بار اس رسالہ یا دوسری کتابوں میں ہم نے لکھا ہے صرف عام فہم کرنے کے لئے یہ لفظ لکھا گیا ہے ورنہ الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالا جاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو۔ اس وجی سے آریہ سماج والے بالکل بے خبر ہیں۔ منہ