چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 72

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۲ چشمه معرفت ۶۴ الہامی کتاب نازل فرماتا ۔ مگر بعد میں ایک ایسے زمانہ میں کہ جب ایک طوفان گناہوں کا برپا ہوا یہ طاقت اُس کی مسلوب ہوگئی اور اُس کو قدرت نہ رہی کہ انسانوں کی موجودہ حالت کے موافق اُن کی اصلاح کے لئے کوئی کتاب بھیجتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں تو کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہیں مگر جب کہ زمانہ پر فساد اور گمراہی غالب آگئی ہو اور بدعقیدگی اور بدکاری کے جذام سے روحانیت کا خون بگڑ گیا ہو تو اس صورت میں الہامی کتاب کی اشد ضرورت پیش آئے گی لیکن جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں نوع انسان ابتدائے آفرینش میں اصلاح کی ایسی محتاج نہیں جیسا کہ اس زمانہ میں محتاج ہے جس میں ایک طوفان بد عقیدگی اور بدکاری کا بر پا ہو خاص کر جب کہ بقول آریوں کے ابتدائے آفرینش میں مکتی پانے کا زمانہ قریب تھا اور بوجہ قرب زمانہ مکتی کے پہلی تمام ہدایتیں اور گیان اور معرفت کی باتیں خوب یاد تھیں اور ابھی دل خراب نہیں ہوئے تھے اور عملی حالت بگڑی نہیں تھی تو ایسے پاک دلوں کو جو ابھی کسی بد عقیدگی اور بدعملی میں مبتلا نہیں ہوئے تھے کسی مصلح اور کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہ تھی اور یہ تو ہم مانتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش میں بھی اُس وقت کے انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی کتاب دی تھی مگر یہ نہیں مانتے کہ وہ کتاب دید ہی ہے اور نہ وید نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے بلکہ رگ وید جا بجا اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ وید سے پہلے کئی راستباز گذر چکے ہیں اور وید میں جابجا ایسی چیزوں کا ذکر ہے جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وید اُس زمانہ کی کتاب ہے جب کہ دنیا ہر ایک نیک و بد سے خوب آباد ہو چکی تھی اور اہل دنیا کے تمام ضروری اسباب پیدا ہو چکے تھے اور ہم اس دلیل کو بھی نہیں مانتے کہ جو وید کے الہامی ہونے پر اس طور سے پیش کی جاتی ہے کہ اوّل صرف دعوے کے طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ابتدائے آفرینش میں انسانوں کو دی گئی اور پھر بعد اس کے یہ کہا