چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 68

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۶۸ چشمه معرفت تین شریر آریوں کی نسبت جو قادیان کے آریہ اخبار شجھ چنتک کے ایڈیٹر اور منتظم تھے اور سخت بد گو تھے خبر دی تھی کہ وہ طاعون سے ہلاک ہوں گے۔ چنانچہ وہ اس پیشگوئی سے دوسرے یا تیسرے دن طاعون سے ہی مرے۔ آپ کے پر میشر کو کیا چیز سمجھیں وہ تو صرف قصوں سے طفل تسلی دیتا ہے مگر ہمارے خدا نے خود ہمیں الہام سے مشرف کر دیا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے وید کی تائید میں یہ سنایا کہ الہام آدسرشٹی یعنی ابتدائے زمانہ آفرینش سے ہونا چاہیے مگر اس بات پر دلیل نہیں بیان کی کہ کیوں ابتدائے آفرینش سے ہونا چاہیے اور کیوں بعد اس کے الہام نازل کرنا حرام ہے۔ پس واضح ہو کہ یہ بات ضروری ہے اور ہم مانتے ہیں کہ دُنیا کی ابتدا میں انسان کو خدا سے الہام پانے کی ضرورت ہے مگر ہم یہ نہیں مانتے کہ وہ ضرورت صرف ابتدائے زمانہ میں پیش آتی ہے اور بعد اس کے کبھی پیش نہیں آتی۔ ابتدائے زمانہ میں خدا کے الہام کی طرف صرف اس لئے انسان محتاج ہے کہ وہ محض بے خبری کی حالت میں پیدا ہوتا ہے اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور اعمال صالح کن اعمال کو کہتے ہیں مگر یہ بے خبری کچھ ابتدائے زمانہ پر موقوف نہیں بلکہ انسان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہے کہ گو اس کے باپ دادے راہ راست سے بے خبر نہ تھے اور ایمان رکھتے تھے اور نیک اعمال بجالاتے تھے مگر انسان ایک مدت دراز گذرنے کے بعد اُن کے طریق کو بھول جاتا ہے اور اُن کے مخالف طریق اختیار کرتا ہے اور بسا اوقات وہ کتاب محرف و مبدل ہو جاتی ہے جس سے پہلے لوگ ہدایت پاتے تھے اور بعض اوقات پیچھے آنے والے لوگوں کو اُن کے معنی سمجھنے میں غلطیاں پیدا ہو جاتی ہیں جیسا کہ یہی غلطیاں وید کے پڑھنے والوں کو پیش آئیں کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ وید مخلوق پرستی سکھاتا ہے اسی وجہ سے تمام ہندو مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں۔ اور تمام آریہ ورت بت پرستی اور آتش پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی اور آب پرستی اور انسان پرستی سے بھرا ہوا ہے بلکہ دنیا میں کوئی مخلوق پرستی کی قسم نہیں جو ہندوؤں نے اختیار نہیں کر رکھی یہاں تک کہ بعض درختوں کی بھی پوجا ہوتی