چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 55

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۵ چشمه معرفت پس جبکہ وید اُن کو پر میشر کے یہی اخلاق سکھاتا ہے کہ ہرگز ہرگز کسی کا گناہ معاف نہیں کرنا (۴۷ چاہیے اور کرم اور جود اور احسان کسی کی نسبت ہرگز نہیں کرنا چاہیے تو اس صورت میں آریہ صاحبوں کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے دلوں کو سخت رکھیں اور درگذر اور معافی کا نام نہ لیں اور جود و احسان کو حرام سمجھیں لیکن ایک سچے مسلمان کے اخلاق اس کے برخلاف ہوں گے۔ اور وہ چونکہ قرآن شریف میں پڑھتا ہے کہ خدا تعالیٰ تو بہ قبول کرتا ہے، گناہوں کو معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ اس معافی کے لئے وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی نا کردہ گناہ سولی پر کھینچا جائے تا وہ گناہ معاف کرے بلکہ وہ صرف تو بہ اور تضرع اور استغفار سے گناہ معاف کر دیتا ہے اس لئے ایک صادق مسلمان بھی اپنے قصور واروں کے قصور اسی طرح معاف کرتا ہے اور اس معافی کے لئے کسی کو سولی پر چڑھانے کی شرط پیش نہیں کرتا بلکہ ایک قصور وار کی تو بہ اور رجوع کی حالت میں وہ تمام قصور بخش دیتا ہے کیونکہ اُس کا خدا بھی اسی طرح قصوروں کو بخشتا ہے اور وہ تمام لوگوں سے مروت اور احسان سے پیش آتا ہے کیونکہ اُس کا خدا بھی جواد اور کریم اور رحیم ہے لیکن جن لوگوں کا پر میشر بجز غضب اور بخل اور بغض کے گنہگاروں کے ساتھ اور کوئی معاملہ نہیں کر سکتا اُن پر ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اخلاق فاضلہ اختیار کریں گے جو ان کے پرمیشر میں موجود نہیں ہیں۔ ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ ان کی دوستی سے پر ہیز کرے ایسا نہ ہو کہ دوستی کے ایام میں اپنے پر میشر والے اخلاق ظاہر کر دیں کیونکہ ہمو جب وید کے جس کو آریہ صاحبان پیش کرتے ہیں پر میشر کے یہ اخلاق ہیں کہ کسی کے ایک ذرہ گناہ پر بھی سخت مؤاخذہ کرتا ہے اور بے شمار برسوں تک پلید اور گندی جونوں میں ڈالتا رہتا ہے اور پھر اگر ایک گنہگار دلی درد اور پشیمانی سے اُس کے آگے رووے، چلا دے، نہایت عاجزی سے ناک رگڑے اور نہایت درجہ رنج اور غم کے ساتھ اپنے پر ایک موت وارد کر لے اور آئندہ کے لئے سچے دل سے