چشمہٴ معرفت — Page 54
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۴ چشمه معرفت تمام لوگ جو مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں گناہ تو سب کا برا بر ہوتا ہے کم و بیش نہیں ہوتا یعنی صرف ایک ذرہ مگر جو نہیں برابر درجہ کی نہیں ہوتیں اُسی گناہ سے مرد بنایا جاتا ہے اور اُسی سے عورت اور اُسی سے بندر اور اُسی گناہ سے نجاست کا کیڑا ۔ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ وید کی یہ فلاسفی کس قسم کی ہے۔ کیا اب بھی پر میشر کا نام نیا کار اور منصف رکھو گے پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جونوں کی مختلف صورتیں چاہتی ہیں کہ گناہ بھی مختلف صورتوں کے ہوں پس اس سے لازم آتا ہے کہ جس قدر دنیا میں جاندار، کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں اُسی قدر گناہ بھی ہوں اور اس بات کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ تمام سطح زمین اور فضا اور سمندر مختلف جانداروں اور کیڑوں مکوڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ اسی قدر گناہ بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ مختلف حالتوں کے جاندار زمین پر نظر آتے ہیں تو آریہ صاحبوں کا یہ فرض ہے کہ وید میں سے نکال کر اُن گناہوں کی ایک فہرست ہمیں دیویں تا ہم مقابلہ کر کے دیکھ لیں کہ جس قدر زمین پر اور سمندر میں اور آسمان کی فضا میں اور زمین کے اندر جانور اور کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں کیا اسی کے موافق ٹھیک ٹھیک تعداد گناہوں کی وید میں لکھی گئی ہے کیونکہ اگر یہ فہرست گناہوں کی اُن تمام جانوروں کی تعداد کے برابر نہیں ہوگی تو اس صورت میں ہمیں تناسخ اور نیز وید کے باطل ٹھہرانے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں ہوگی سو یہ بار ثبوت آریہ صاحبوں پر ہے کہ گناہوں کی فہرست اسی انداز اور تعداد کی پیش کریں جس قدر مختلف جانور زمین میں پائے جاتے ہیں ۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جب کہ آریہ صاحبوں کا پر میشر ایسا سخت دل ہے کہ عفو اور در گذ را ور رتم اور کرم کی اس میں عادت ہی نہیں اور نیز اُس کی مکتی میں بھی ایک مخفی دعا ہے تو بلا شبہ یہی اخلاق آریہ صاحبوں کے ہوں گے اور ہونے چاہئیں کیونکہ یہ سخت بدذاتی ہے کہ انسان وہ اخلاق اختیار کرے جو اُس کے خدا کے اخلاق کے برخلاف ہیں اور ظاہر ہے کہ انسان کا کمال یہی ہے کہ صفت تخلّق باخلاق اللہ سے متصف ہو