چشمہٴ معرفت — Page 53
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۳ چشمه معرفت اور پھر ہم جب اس پہلو کو دیکھتے ہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ایک مدت کے بعد تمام لوگ مکتی خانہ سے نکالے جاتے ہیں تو ہمیں اور بھی وید کی تعلیم پر افسوس آتا ہے کہ وہ کس قدر ۴۵ خلاف حق خدائے کریم کی ذات پر بخل اور بغض اور نادانی کی تہمت لگا رہی ہے یعنی یہ عذر بیان کیا جاتا ہے کہ پر میشر جو ملتی دے کر پھر مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے تو وہ اس اخراج کے لئے پہلے سے مکتی یا بوں کا ایک ذرہ سا گناہ باقی رکھ لیتا ہے اور آخر اُسی گناہ پر دوبارہ مواخذہ کر کے سب کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے۔ اب خود سوچ لو کہ کیا یہ نہایت بد اور قابل نفرت مکر خداوند کریم کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ جہاں اور گناہوں کے دور کرنے کے لئے ایک مدت تک جونوں میں رکھا تھا اس تھوڑے سے گناہ کے لئے بھی چندروز اواگون کے چکر میں رکھتا اور پھر دائمی مکتی دیتا اور پھر اس جگہ منصفین کے لئے یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ گناہ تو صرف ایک ذرہ تھا پھر اس کی سزا میں انسانوں کو بڑے بڑے گناہوں کی سزا کے موافق کتے بلیاں بنانا اور مختلف طور کی جونوں میں ڈالنا یہ کس قسم کا انصاف ہے اور پھر یہ بھی سوچو کہ وہ گناہ جو صرف ایک ذرہ کے مقدار تھا اس کی سزا میں بعض کے لئے بڑی سزا ئیں اور بعض کے لئے چھوٹی سزائیں کیوں کر تجویز کی گئیں یعنی اُسی ایک ذرہ گناہ کی وجہ سے ایک گروہ کو تو مکتی خانہ سے نکال کر انسان کی جون میں ڈالا گیا مگر پھر بھی بعض کو مرد اور بعض کو عورت بنایا اور پھر اُسی ایک ذرہ گناہ کی وجہ سے دوسرے گروہ کو کتنے اور تیسرے کو سو ر اور چوتھے کو بندر بنایا گیا حالانکہ گناہ صرف ایک ذرہ تھا۔ اول تو ایک ذرہ گناہ چیز ہی کیا تھا کہ اس کی وجہ سے انسان کو کسی جون میں ڈالا جاتا کیونکہ اگر پر میشر کی نظر میں وہ گناہ قابل بیزاری ہوتا تو با وجود ایسے گناہ کے کیوں پر میشر لوگوں کو مکتی خانہ میں داخل کرتا ۔ کیا وہ گناہ بھی کچھ وزن رکھتا ہے جو مکتی دینے کے وقت نظر انداز کیا گیا تھا اور اگر ایسی بے رحمی ہی منظور تھی تو صرف ایک ذرہ گناہ سے ایک ہی جون میں ڈالنا چاہیے تھا تا کسی کی رعایت نہ ہو مگر اس میں تو صریح پکش پات اور طرف داری ہے کہ