چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 50

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت ۲۲ سزا دینے کے پھر بھی انسان کو انسان ہی رکھتا ہے کسی اور جون میں نہیں ڈالتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی رو سے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت اُس کے غضب سے بڑھ کر ہے اور وید کے رو سے گنہ گاروں کی سزا نا پیدا کنار ہے اور پر میشر میں غضب ہی غضب ہے رحمت کا نام و نشان نہیں مگر قرآن شریف سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار دوزخیوں پر ایسا زمانہ آوے گا کہ خدا سب پر رحم فرمائے گا لیکن وید کی رو سے اگر پر میشر کا ارادہ دیکھنا ہو تو ایک نظر اُن حیوانات پر ڈالو جو جنگلوں اور دریاؤں اور آسمان کی فضا اور آبادیوں میں موجود ہیں اور اُن کیڑوں پر نظر ڈالو جو ایک ایک قطرہ پانی میں جس سے سمندر اور دریا بھرے پڑے ہیں ہزارہا موجود ہیں تو کیا اس سے سمجھا جاتا ہے کہ مکتی دینے میں پر میشر کی نیت بخیر ہے۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ اے آریہ صاحبان! خوب یاد رکھو کہ پر میشر ان تمام انسانوں کے جونوں کو انسان بنانے کا ہرگز ارادہ نہیں رکھتا اگر ارادہ رکھتا تو پر میشر اسی قدر زمین کو فراخ بناتا جس قدر تمام کیٹروں مکوڑوں کو انسان بنانے کی حالت میں فراخ بنانے کی حاجت پیش آنے والی تھی۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف ویدہی کا ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے پر میشر کو پر غضب اور کینہ ور قرار دیتا ہے اور اس بات کا سخت مخالف ہے کہ خدا تعالیٰ تو بہ اور استغفار سے اپنے بندوں کا گناہ بخش دیتا ہے اور عجیب تریہ کہ اس مذہب میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پر میشر تمام مخلوقات کا مالک ہے اور تمام مخلوق جانداروں کی قسمت اس کے ہاتھ میں ہے اور وہی ایک ہے جس کے سامنے تمام گنہ گار پیش کئے جاتے ہیں لیکن انسانوں کی بدقسمتی کی وجہ سے اس میں یہ صفت غضب تو موجود ہے جو گناہ کو دیکھ کر اس کی سخت سے سخت سزا دیتا ہے لیکن اس میں یہ دوسری صفت موجود نہیں کہ کسی گنہ گار کی تو بہ اور تضرع سے اس کا گنہ بھی بخش سکتا ہے بلکہ جس سے ایک ذرہ بھی قصور ہو گیا پھر نہ اُس کی توبہ قبول نہ تضرع عاجزی قابل التفات حالانکہ یہ بات ظاہر ہے