چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 46

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۶ چشمه معرفت ۳۸) ماننے والے اور پڑھنے پڑھانے والے پنڈت کیوں مخلوق پرستی میں گرفتار ہو جاتے اور کیوں بڑے بڑے پنڈت جن کو وید کنٹھ تھے اس بلا میں پھنس جاتے ؟ اور کیوں ہندو لوگ بت شکن با دشاہوں کے جانی دشمن بن جاتے اور کیوں وہ لڑائیاں ہوتیں جو سلطان محمود غزنوی کے مقابل سومنات کے بت کی حمایت کے لئے ہندوراجوں نے کیں ہیں اور باہمی لڑائیوں سے خون کی ندیاں بہ گئیں؟ پس یہ تمام گمراہ فرقے اور بت پرستی کے حامی در حقیقت وید سے ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ پھر اسی مضمون میں جو جلسہ میں پڑھا گیا مضمون کے پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ پر میشر غضب اور کینہ اور بغض اور حسد سے الگ ہے۔ شاید اس تقریر سے اُس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی نسبت غضب کا لفظ آیا ہے تو گویا وہ اپنے اس مضمون میں قرآن شریف کے مقابل پر وید کو اس تعلیم سے مبرا کرتا ہے کہ خدا غضب بھی کیا کرتا ہے مگر یہ اُس کی سراسر غلطی ہے۔ یادر ہے کہ قرآن شریف میں کسی بے جا اور ظالمانہ غضب کی طرف خدا تعالیٰ کو منسوب نہیں کیا گیا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ بوجہ نہایت پاکیزگی اور تقدس کے خدا تعالیٰ میں ہم رنگ غضب ایک صفت ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ نا فرمان کو جو سرکشی سے باز نہیں آتا اس کی سزادی جائے اور ایک دوسری صفت ہم رنگ محبت ہے اور وہ تقاضا کرتی ہے کہ فرمانبردار کو اس کی اطاعت کی جزا دی جا۔ جزا دی جائے یا پس سمجھانے کے ۔ کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اور دوسری صفت کا نام محبت رکھا گیا ہے لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت ☆ حاشیه : تیسری صفت خدا تعالیٰ میں ایک رحم بھی ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ رجوع کرنے والوں کا گناہ بخش دیا جائے ۔ پس یہ تین صفت ہیں غضب - محبت ۔ رحیم ۔ جو خدا تعالیٰ کی ذات میں موجود ہیں مگر نہ انسانی صفات کی طرح بلکہ اس طرح جو خدا کی شان کے لائق ہے۔ منہ