چشمہٴ معرفت — Page 30
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت (۲) ان کے سر پر تھاپ کر سکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے مگر اب سوچنے کا مقام ہے کہ اسی ذرہ سے گنہ کے عوض میں ایک تو انسان بنایا جاتا ہے اور دوسرا کتے کی جون میں ڈالا جاتا ہے اور تیسرے کو گھوڑا بناتے ہیں۔ اور اسی گنہ کے عوض میں کوئی گائے بن جاتا ہے اور کوئی بکری اور کوئی مرغی اور کوئی نجاست کا کیڑا اور کوئی مرد اور کوئی عورت ۔ پس یہ پرمیشر کے نیاؤ یعنی انصاف کا نمونہ ہے کہ گناہ تو صرف ایک ذرہ کی مقدار تھا اسی گنہ کے عوض میں ایک تو وید کے رشی پیدا ہوئے جن کے دلوں پر خدا نے الہام کا پرکاش کیا اور پھر اسی گناہ کے عوض میں بعض کتے اور سؤر اور بندر بنائے گئے ۔ کیا یہی انصاف ہے یہی وید کا فلسفہ ہے اور یہی وید مقدس کی ودیا ہے کوئی صاحب ہمیں جواب دیں۔ اور میعادی مکتی یعنی نجات پر یہ دلیل لاتے ہیں کہ محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں ہو سکتا گویا پر میشر تو دائمی نجات دینے پر قادر تھا مگر کیا کرے اعمال محدود ہیں دیکھو یہ کیسا مکر ہے کہ اس بات کو پر میشر چھپاتا ہے کہ اس میں خود ہی یہ طاقت نہیں کہ دائمی نجات دے سکے۔ دل میں کچھ اور زبان پر کچھ اور عجیب تریہ کہ آریہ صاحبان اس بات کے قائل ہیں کہ چند روزہ نیکی اور عبادت کے عوض میں کئی ارب تک پر میشر مکتی خانہ میں رکھ سکتا ہے۔ پس وہ اپنے اس قول سے ملزم ہو سکتے ہیں کیونکہ جس پر میٹر نے یہ گوارا کیا کہ تھوڑی مدت کے عوض میں اس قدر مدت پاداش عمل کی رکھی تو اگر وہ دائگی نجات عطا کر دیتا تو کون سا الزام اس پر وارد ہوتا تھا جس سے وہ بچ گیا۔ انسانی گورنمنٹ بھی کسی کو پنشن دے کر اس بہانہ سے ضبط نہیں کر سکتی کہ خدمت کے ایام سے پنشن کے ایام زیادہ ہو گئے ہیں ۔ اور پھر مکتی دینے کے وقت ایک گنہ باقی رکھ لینا اور آخر اسی گناہ کو مکتی یافتوں کے ذمہ لگا کر کتی خانہ سے باہر نکالنا اور پھر بعضوں کی رعایت کرنا اور بعض