چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 27

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۷ چشمه معرفت دیا نند نے اپنی کتاب ترجمہ شدہ کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پر میشر محدود افعال کا ثمرہ (۱۹) غیر محدود نہیں دے سکتا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر وہ مالکا نہ اختیار رکھتا ہے تو محدود خدمت کے عوض میں غیر محدود شمرہ دینے میں اُس کا کیا حرج ہے کیونکہ مالک کے کاموں کے ساتھ انصاف کو کچھ تعلق نہیں ۔ ہم بھی اگر کسی مال کے مالک ہوکر سوالیوں کو کچھ دینا چاہیں تو کسی سوالی کا حق نہیں کہ یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص کو زیادہ دیا اور مجھے کم دیا اسی طرح کسی بندہ کا خدا تعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اُس سے انصاف کا مطالبہ کرے کیونکہ جس حالت میں جو کچھ بندہ کا ہے وہ سب کچھ خدا کا ہے تو نہ تو یہ بندہ کا حق ہے کہ انصاف کی رو سے اُس سے فیصلہ چاہے اور نہ خدا کی یہ شان ہے کہ اپنی مخلوق کا یہ مرتبہ تسلیم کرلے کہ وہ لوگ اُس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے مجاز ہیں ۔ پس در حقیقت جو کچھ خدا تعالیٰ بندہ کو اُس کے اعمال کی جزائیں دیتا ہے وہ اُس کا محض انعام اکرام ہے ورنہ اعمال کچھ چیز نہیں ۔ بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال کب ہو سکتے ہیں پھر ما سوا اس کے جب ہم خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیا کیا ہے یا کرتا ہے وہ دوقسم کی بخشش ہے۔ ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں اور ایک ذرہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اُس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج ں چاند، ستارے، زمین ، پانی ، ہوا، آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ان چیزوں کو انسانوں کے وجود اور ان کے عملوں پر تقدم ہے اور انسان کا وجود ان کے وجود کے بعد ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رُو سے رحمانیت کہتے ہیں یعنی ایسی جو دو عطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔ دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیت کہتے ہیں یعنی