چشمہٴ معرفت — Page 435
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۵ چشمه معرفت ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے افعال بھی انسان کے علم اور فہم سے برتر ہیں اور خدا نے قرآن شریف میں زبر دست نشانوں کے ساتھ اپنی ذات اور صفات کو ثابت کیا ہے اور انسانی عقل کو وہ تکلیف نہیں دی جس کے وہ لائق نہیں ۔ ہاں اپنی بعض ایسی مخلوقات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ معمولی عقل اُن کے وجود کو سمجھ نہیں سکتی جیسے فرشتے جو پوشیدہ طور پر خدا نے بعض بعض خدمات کے لئے مقرر کئے ہیں مثلاً جیسا کہ وحی اور الہام کے پہنچانے کے لئے ایک نادان کہے گا کہ جب کہ خدا قادر مطلق ہے تو پھر فرشتوں کے بنانے کے لئے کیا ضرورت پیش آئی ؟ اس کا اسی قدر جواب کافی ہے کہ اُسی طرح ضرورت پیش آئی جیسا کہ باوجود خدا کے قادر ہونے کے کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے ہوا کی ضرورت پیش آئی اور آنکھوں کو راہ دکھانے کے لئے سورج کی ضرورت پیش آئی۔ اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ نظام جسمانی میں خدا نے بعض چیزوں کی تکمیل کے لئے بعض اسباب رکھے ہیں اسی طرح نظام روحانی میں بھی وہ اسباب ہیں تا دونوں نظام با ہم مطابق ہو کر ایک خدا پر دلالت کریں۔ اسی طرح شیطان کے وجود پر بھی بعض نا سمجھ اعتراض کرتے ہیں کہ گویا خدا نے خود لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا مگر یہ بات نہیں ہے بلکہ ہر ایک دانا اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ہر ایک انسان میں دو قو تیں ضرور پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک قوت کو عربی میں لمہ شیطان کہتے ہیں اور دوسری قوت کو لمہ ملک یعنی انسانی فطرت میں یہ بات مشہور ہے کہ کبھی نامعلوم اسباب سے نیک خیال اس میں پیدا ہوتا ہے اور نیک کاموں کی طرف دل رغبت کرتا ہے اور پھر بھی بدخیال اس کے دل میں اٹھتا ہے اور بدی اور بدکاری اور ظلم اور شر کی طرف اُس کی طبیعت مائل ہو جاتی ہے۔ پس وہ قوت جو بد خیال کا منبع ہے قرآنی تعلیم کی رُو سے وہ شیطان ہے اور وہ قوت جو نیک خیال کا منبع ہے وہ فرشتہ ہے۔ پس ان دونوں قوتوں کو جو مشہود و محسوس ہیں بہر حال مانا ہی پڑتا ہے خواہ تم کسی رنگ میں مان لو ، اسی طرح